خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 431 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 431

خطبات محمود ۴۳۱ سال ۱۹۳۵ء جماعت کی تعداد پنجاب میں چھپن ہزار تھی اور اگر پنجاب میں ہماری تعداد چھپن ہزار تھی تو گورنمنٹ کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ سارے ہندوستان میں ہماری جماعت کی تعداد ایک لاکھ سے کسی صورت میں کم نہیں ہو سکتی۔۱۹۲۱ ء کی مردم شماری میں گورنمنٹ کے نقطہ ء نگاہ کے ماتحت پنجاب میں ۲۸ ہزار احمدی تھے لیکن ۱۹۳۱ء کی مردم شماری میں چھپن ہزار ہو گئے گویا احمدی دس گیارہ سال کے عرصہ میں دو گنے ہو جاتے ہیں۔پس گورنمنٹ کو اپنے اعداد و شمار کے رو سے بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ اگر ۱۹۳۱ء میں پنجاب میں چھپن ہزار احمدی تھے تو اب ۱۹۳۵ء میں ۸۴ ہزار ہو گئے ہیں اور اگر ۱۹۳۱ء میں تمام ہندوستان میں ایک لاکھ احمدی تھے تو اب ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ہو چکے ہیں۔ان پنجاب کے ۸۴ ہزار یا ہندوستان کے ڈیڑھ لاکھ احمدی افراد کو قابو میں رکھنا سخت مشکل کام ہے۔اسی واقعہ کے متعلق کئی لوگوں نے مجھے لکھا ہے کہ آپ ہمارے ہاتھوں کو روک کر ہمیں بے غیرت بناتے ہیں پھر کئی لوگوں نے لکھا ہے کہ اگر آپ کی اس نصیحت پر عمل کیا جائے تو جماعت تباہ ہو جائے۔میں جانتا ہوں کہ لکھنے والے مخلص ہیں اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ جب وہ یہ الفاظ لکھ رہے تھے تو انہیں معلوم نہیں تھا کہ ان کا مفہوم کیا نکلتا ہے مگر اس سے صاف ظاہر ہے کہ بعض طبائع میرے روکنے کے باوجود نہیں رُک رہیں اور بعض طبائع میرے متعلق سمجھتی ہیں کہ میں انہیں تباہی کی طرف لے جا رہا ہوں ایسی حالت میں گورنمنٹ کا یہ امید رکھنا کہ ہماری جماعت کے کسی فرد سے کوئی غلطی نہ ہو بہت بڑی امید ہے اور گورنمنٹ کا فرض ہے کہ وہ اس صورتِ حالات کا جو ہمارے خلاف پیدا ہے فوری تدارک کرے ورنہ اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ ہوا تو اس کی ذمہ داری زیادہ تر گورنمنٹ پر عائد ہوگی احراریوں پر کم ہوگی کیونکہ ان کا کام ہی فتنہ و فساد پیدا کرنا ہے ، احمد یوں پر نہیں ہو گی کیونکہ وہ مظلوم ہیں اور وہ دشمنوں کی طرف سے بے حد ستائے گئے ہیں ، غرض اس کی اصل ذمہ داری گورنمنٹ پر ہوگی جو قیام امن کے لئے قائم کی گئی ہے اور اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہے۔پھر باجود میری کوششوں اور جماعت کے دوسرے مخلصین کی ان کوششوں کے کہ فساد نہ ہو، کسی قسم کا جھگڑا نہ ہو اور باوجود اس کے کہ گورنمنٹ اپنے سلوک کی وجہ سے اب اس بات کی مستحق نہیں رہی کہ اس کے ساتھ تعاون کیا جائے ، گورنمنٹ اگر ہم سے کسی چیز کی امید کر سکتی ہے تو وہ وہی ہے جس کے کرنے کا مذہب ہمیں حکم دیتا ہے اور وہ یہ ہے کہ حکومت وقت کے قوانین کی فرمانبرداری کرو۔پس ہم اس کے قوانین کی فرمانبرداری