خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 430 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 430

خطبات محمود ۴۳۰ سال ۱۹۳۵ء رکھا۔تو اس وقت دنیا میں اخلاق حکومت نہیں کر رہے بلکہ حکومت کا ڈنڈا کر رہا ہے۔تمہارے تمام دلائل کو بے ہودہ سمجھا جائے گا کیونکہ تم تھوڑے ہو اور ان کی ہر بات کو سچا سمجھائے گا کیونکہ وہ زیادہ ہیں۔تم میں سے ایک کا فعل جماعت احمدیہ کے سالہا سال کے قائم شدہ وقار کو بر باد کر دے گا جیسے محمد حسین کا واقعہ ہوا۔دشمن کو ہمارے خلاف پروپیگنڈا کرنے کا موقع مل جائے گا اور وہ ایک ذلیل لڑکے کے متعلق یہ مشہور کرنے لگ جائیں گے کہ وہ دین کے لئے اپنی جان قربان کرنے والا ، اسلام کا خادم اور مجاہد اور کیا کیا تھا۔اور پھر تمام عالم اسلام سے اس بہانہ کی آڑ میں چندے بٹورنے کی کوشش کی جائے گی اور کہا جائے گا کہ ہم اس کی یاد میں کالج کھولنا چاہتے ہیں ، مدرسہ قائم کرنا چاہتے ہیں گو آخر میں یہ تمام چندہ احرار کی جیب میں ہی چلا جائے۔پھر وہ شخص جو اس قسم کی حرکت کرے گا قانون کی زد سے بھی بچ نہیں سکے گا۔ان حالات میں تم سوچو کہ ہمیں کیا فائدہ ہوگا۔اس کا صرف یہ نتیجہ ہوگا کہ ہمارا ایک وجود جو اس کے وجود سے ہزاروں درجے بڑھ کر ہو گا ضائع ہو جائے گا۔مگر میں ایک جاہل سے جاہل اور ادنیٰ سے ادنی احمدی کے متعلق یہ وہم نہیں کر سکتا کہ اس کی قیمت اور حنیف کی قیمت برا بر ہے ہم میں سے جو سب سے چھوٹا ہے وہ اس مارنے والے سے سینکڑوں درجے زیادہ قیمت رکھتا ہے۔پس کیا تم نے کبھی دیکھا کہ کوئی شخص پیسہ کے لئے اشرفی قربان کر دے۔اگر نہیں تو جو شخص اس قسم کے فعل کا خیال بھی اپنے دل میں لائے گا وہ اپنی نہیں بلکہ احمدیت کی قیمت کو گرانیوالا ہو گا۔سیاسی طور پر مارنے والے کا کوئی جرم نہیں کیونکہ مجرم یا احرار لیڈروں کا ہے یا حکومت کا۔عقلی طور پر وہ کوئی خاص پوزیشن نہیں رکھتا، تمدنی طور پر اس کا لوگوں پر کوئی اثر نہیں ، پھر اس قسم کی حرکت اگر ہم میں سے کوئی شخص کرے گا تو اس کا کیا فائدہ ہوگا۔پس اس موقع پر جہاں میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ صبر وضبط سے کام لے اور اپنے جوشوں کو دبا کر رکھے ، وہاں حکومت کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس قسم کے آدمیوں کو کچھ عرصہ کے لئے قادیان سے باہر رکھے کیونکہ ہر قسم کی نصیحت کے باوجود اس وقت طبائع میں سخت جوش ہے اور کوئی گورنمنٹ لوگوں کی طبائع کے جوش کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔اگر ایک ہزار افراد کا مجمع ہو تو اسے بھی کنٹرول میں رکھنا مشکل ہوتا ہے۔پھر ہماری جماعت تو خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت زیادہ ہے اور مختلف طبائع کے لوگ اس میں شامل ہیں ان سب کو قابو میں رکھنا بہت زیادہ مشکل کام ہے۔گورنمنٹ کے اعداد و شمار کے لحاظ سے آج سے چار سال پہلے ہماری