خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 410

خطبات محمود ۴۱۰ سال ۱۹۳۵ء اس طرح گرے کہ وہ نیچے تھے اور مالک او پر اُس وقت انہوں نے جو شعر پڑھا وہ ان کی ایمانی حالت کو ظاہر کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ صحابہ کے دل میں شعائر اللہ کی کتنی تعظیم تھی۔آپ نے کہا اقْتُلُونِي وَمَالِكًا اقْتُلُوا مَالِكًا مَعِى یعنی اے دوستو ! ما لک کو قتل کرنے سے اس لئے نہ جھجکو کہ وہ میرے اوپر ہے اور اس کو مارنے سے میں بھی مارا جاتا ہوں۔تم میری موت کا فکر نہ کرو مجھے بھی ماردو اور مالک کو بھی مار دوا اور ہم دونوں کا اکٹھا خاتمہ کر کے اس وقت حضرت عائشہ کی حفاظت کرو۔جب میں اس واقعہ کو پڑھتا ہوں تو باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے مؤمنوں کا خلیفہ بنایا ہے میرے دل میں یہ خواہش ہوتی ہے کہ کاش! میں بھی اُس وقت ہوتا اور حضرت عائشہ کی حفاظت کرتا۔پس میں شعائر اللہ کی تعظیم سے آگاہ ہوں اور جانتا ہوں کہ ان کی کیا اہمیت ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الاول ایک دفعہ نواب صاحب کی کوٹھی میں کسی مریض کو دیکھنے یا کسی اور کام کے لئے گئے تو اسی گلی میں جس میں یہ حادثہ ہوا ہے گھوڑی جس پر آپ سوار تھے بدک گئی اور آپ نیچے گر گئے جس سے سر پر چوٹ آئی اور دماغ کو بھی صدمہ پہنچا۔اس سے آپ بار بار بے ہوش ہو جاتے تھے مجھے اطلاع ملی تو تیمار داری کے لئے میں بھی وہاں جا بیٹھا اور دیر تک وہیں بیٹھا رہا اُس دن میرالڑ کا ناصر احمد سخت بیمار تھا اسے پیچیش تھی اور اس میں کثرت سے خون آتا تھا اور مرض یہاں تک بڑھ گیا تھا کہ خطرہ تھا کہ وہ بچے گا نہیں۔مجھے حضرت خلیفہ اول کے پاس بیٹھے بیٹھے جب بہت دیر ہوگئی تو چونکہ ماں کو اپنے بچہ سے بہت محبت ہوتی ہے میری بیوی کی طرف سے بار بار پیغام آنے لگا کہ بچہ کی حالت نازک ہے جلد آؤ۔شام کے قریب حضرت خلیفہ اول کو ہوش تھا اُس وقت بھی کسی نے آکر اونچی آواز سے مجھے پیغام دیا مگر میں نے اُسے گھور کر دیکھا کہ چلے جاؤ۔اس کے بعد آپ پر پھر غنودگی طاری ہوگئی اور اس کے تھوڑی دیر بعد پھر آپ نے آنکھیں کھولیں اور فرمایا میاں ! تم اب تک یہاں بیٹھے ہو۔میں نے سمجھا آپ کا یہ مطلب ہے کہ اس دوران میں کہیں گئے تو نہیں۔میں نے کہا ہاں میں برابر یہیں بیٹھا ہوں۔آپ نے فرمایا۔میں نے ابھی کسی کو یہ کہتے سنا ہے کہ ناصر احمد کی حالت خراب ہے تم گئے نہیں ؟ پھر آپ نے فرمایا کیا تم سمجھتے ہو وہ تمہارا بیٹا ہے میں اسے اس نگاہ سے نہیں دیکھتا۔میں اس نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پوتا ہے جاؤ چلے جاؤ۔