خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 375 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 375

خطبات محمود ۳۷۵ سال ۱۹۳۵ء طاعون اور ہیضہ کے کیڑوں سے ہوتی ہے یا کبھی وہ زمین کو ایک حرکت دے دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ جس بندے کو خبر دے کہ وہ جا کر لوگوں کو سنا دے، اس کے لئے اس کا اظہار ضروری ہوتا ہے۔اور اگر ڈ نیوی حکومت اسے دست اندازی سمجھے اور کہے کہ یہ قتل کی انکیت ہے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نشانوں کے پھیلنے میں رُکاوٹ ڈالتی ہے اور مذہب میں دست اندازی کرتی ہے ، ملک میں امن قائم نہیں ہونے دینا چاہتی۔جب تک کسی مذہب میں بشارات اور انذار نہ ہوں وہ چل ہی نہیں سکتا۔بچے مذہب میں یا تو یہ خبر ہوگی کہ میرے احکام ماننے والوں کو فائدہ ہوگا اور یا یہ کہ جو مجھے نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا وہ نقصان اُٹھائے گا۔جس کا خلاصہ یہ ہے کہ إِنِّي مُهِينٌ مَنْ أَرَادَ لِهَانَتَكَ وَانّى مُعِيْنٌ مَنْ اَرَادَ إِعَانَتَكَ - جو شخص تیری اہانت کا ارادہ کرے گا، میں اس کی اہانت کروں گا اور جو تیری اعانت کا ارادہ کریگا میں اس کی اعانت کروں گا۔اور پھر اس کا خلاصہ قرآن کریم میں یہ ہے کہ كَتَبَ اللهُ لَا غُلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے یہ فرض کر لیا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب ہوں گے اور دشمن ہلاک ہوں گے۔پس مذہب کی بنیاد ایمان پر ہے اور ایمان بغیر نشانات کے قائم نہیں رہ سکتا۔دنیا کے کاموں میں مبتلا لوگ خدا کو نشانوں کے بغیر کیسے مان سکتے ہیں۔آج دنیا میں دہریت کی رو جاری ہے۔اور ایک ہی چیز ہے جو اسے مٹا سکتی ہے اور یہ خدا تعالیٰ کے تازہ نشانات ہیں۔تازہ نشانات ہی ہیں جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف لا سکتے ہیں جس طرح محمد رسول اللہ ﷺ نے تازہ نشانات سے عرب کے جاہل اور اُجڈ لوگوں کو خدا تعالیٰ کا دیوانہ بنادیا تھا اسی طرح آج بھی آپ کے ایک شاگرد نے ان لوگوں کو جو یورپ کے فلسفہ کو پڑھنے والے ہیں ، اسلام کا والہ وشیدا بنا دیا ہے۔ایمان ایک ایسی چیز ہے جو جاہل کو عالم اور عالم کو عاشق بنادیتی ہے۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں جاہلوں کو ایمان نے اعلیٰ درجہ کا عالم بنادیا تھا اور اس زمانہ میں فلاسفروں کو عشق کا جام پلا دیا ہے۔پس کامل ایمان نشانات سے ہی قائم ہوتا ہے جن سے اللہ تعالیٰ اپنی قدرت دکھاتا اور اپنے وجود کو ثابت کرتا ہے۔معلوم نہیں اگر کسی کی تباہی کی خبر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی جائے تو اس کا یہ مطلب کیونکر ہو سکتا ہے کہ یہ کسی کو انگیخت کی جارہی ہے کہ اسے تلوار سے قتل کر دے۔اگر اس طرح ہو تو دنیا میں کوئی مذہب چل ہی نہیں سکتا۔جب حضرت مسیح علیہ السلام نے دعوی کیا کہ ان کی تعلیم پھیل جائے گی تو کیا اس کا یہ مطلب تھا کہ آپ قتل کی تعلیم دے رہے