خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 374 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 374

خطبات محمود ۳۷۴ سال ۱۹۳۵ء کے سپرد ہوتی ہیں۔بادشاہ کے ارد گرد چپڑاسی اور نوکر چاکر ہوتے ہیں اور کمانڈر کے گرد و پیش معمولی سپاہی اگر وہ ایک دوسرے پر اعتماد نہ کریں تو حکومت کس طرح قائم رہ سکتی ہے اور اگر مذہب کا احساس نہ ہو تو یہ باتیں کبھی نہیں رہ سکتیں۔پس یہ مذہب کا ہی اثر ہے جو د نیوی حکومتوں کو چلا رہا ہے۔اثر میں اس لئے کہتا ہوں کہ دہریوں میں بھی پچھلے اثر کے ماتحت یہ بات پائی جاتی ہے پس باطنی حکومت ظاہری حکومت کی مدد کرتی ہے۔جب میں یہ تعلیم دیتا ہوں کہ سچ بولو تو اس سے حکومت کو مدد ملتی ہے ، اسے فائدہ پہنچتا ہے نقصان کوئی نہیں ہوتا ممکن ہے اس سے کسی وقت معمولی سا نقصان بھی ہو۔مثلاً کوئی بڑا افسر کسی سپاہی سے کسی وقت جھوٹی رپورٹ کرنے کے لئے کہے اور وہ نہ کرے لیکن اگر سب سچ بولنے لگ جائیں تو حکومت کے لئے کس قدر آرام ہو جائے۔پس گوہم خدا کی بادشاہت قائم کرتے ہیں مگر دُنیوی حکومت کو بھی فائدہ پہنچاتے ہیں۔جب ہم کہتے ہیں لڑائی مت کرو، فساد سے بچو، نیکی کرو تو اس سے دُنیوی حکومت کو ضرور فائدہ پہنچتا ہے۔پس کوئی آسمانی تعلیم دنیوی حکومت کے لئے مضر نہیں ہو سکتی سوائے اس کے کہ کوئی نادانی سے اسے خلاف سمجھ لے۔اس نقطہ نگاہ کو اگر حکومت سمجھ لے تو اس کے لئے اگلا حصہ سمجھنا بالکل آسان ہو جاتا ہے کہ جب مذہب کا مقام بالا ہے تو حکومت کا اپنے آپ کو خواہ مخواہ مذہبی فرقوں کے مقابل پر لا کھڑا کرنا دانائی نہیں ہو سکتی۔جب وہ کسی مذہب میں شامل نہیں تو کیوں اپنی انگلی دوسروں کے پھٹے میں ڈالتی ہے۔پس حکومت کو چاہئے کہ وہ ہمارے نقطہ نگاہ کو سمجھ لے۔جس طرح حکومت کو اپنے قیام کے لئے بعض چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح خدائی حکومت کے لئے بھی بعض چیزیں ضروری ہوتی ہیں۔جس طرح دُنیوی حکومت کو فوجوں اور سپاہیوں کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح خدائی حکومت ایمان سے قائم ہوتی ہے اور ایمان کے لئے سب سے ضروری چیز نشانات ہیں۔جس طرح حکومت اپنی طاقت کے اظہار کے لئے چھانگا مانگا، انبالہ یا ایسے ہی دوسرے کھلے میدانوں میں فوجوں کی پریڈیں کراتی ہے ، یا شہروں میں باور دی پولیس اور فوجی تلواریں اور کر چیں لگا کر مظاہرہ کرتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کے سپاہی مؤمن ہوتے ہیں اور پریڈ وہ نشانوں کے ذریعہ کرتے ہیں۔دنیوی گورنمنٹ باغی کو پکڑ کر قید کر دیتی ہے لیکن خدا تعالیٰ اپنے نیک بندے سے کہہ دیتا ہے کہ جاؤ اور کہہ دو کہ جو تم سے دشمنی کرتا ہے وہ ہلاک کر دیا جائے گا، تباہ کر دیا جائے گا اور پھر یہ تباہی کبھی زلزلہ سے آتی اور کبھی طاعون وہیضہ سے۔پس خدائی پریڈ