خطبات محمود (جلد 16) — Page 32
خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء میں سے ہر شخص یہ سمجھ نہیں لیتا کہ اس کی زندگی اس کی نہیں بلکہ اس کے خدا اور اس کے رسول اور اس کے امام اور اس کے بھائیوں کی زندگی ہے ، جب تک اس کی جان ہر ایک کی نہیں ہو جاتی سوائے اپنے آپ کے اس وقت تک اس میدان میں کسی کو کامیابی نہیں ہوئی نہیں ہوسکتی ، نہیں ہوگی۔پس میں جماعت کے تمام افراد کو تو جہ دلاتا ہوں کہ یہ قربانی روپیہ والی قربانی سے کم نہیں بلکہ اس سے ہزار ہا گنا زیادہ اہم ہے اور جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے روپیہ ادا کر کے اپنے فرض کو پورا کر دیا ، وہ تمسخر کرتے ہیں اپنے ایمان سے، وہ تمسخر کرتے ہیں احکام الہی سے اور تمسخر کرتے ہیں خدا اور اس کے صلى الله رسول سے۔کیا تم سمجھتے ہو کہ جس وقت رسول کریم ﷺ بدریا اُحد کی جنگ کے لئے جا رہے تھے اُس وقت اگر کوئی شخص رسول کریم ﷺ کو ایک سو روپیہ دے دیتا اور کہتا یا رَسُولَ اللهِ ! میرا فرض ادا ہو گیا تو اس کا نام مؤمنوں میں شمار ہوتا ؟ کیا تم سمجھتے ہو خدا کا کلام اسے منافق قرار نہ دیتا ، اگر سمجھتے ہو تو پھر تم تین ہزار نہیں دس ہزار روپیہ دے کر بھی کس طرح فرض کر لیتے ہو کہ تمہارا حق ادا ہو گیا۔تم سے جس چیز کا مطالبہ کیا گیا اور جو اکیلا حقیقی مطالبہ ہے وہ تمہاری جان کا مطالبہ ہے۔نہ صرف تمہیں اس وقت اس مطالبہ کو پورا کرنا چاہئے بلکہ ہر وقت یہ مطالبہ تمہارے ذہن میں متحضر رہنا چاہئے کیونکہ اس وقت تک تم میں جرات و دلیری پیدا نہیں ہو سکتی جب تک تم اپنی جان کو ایک بے حقیقت چیز سمجھ کر دین کے لئے اسے قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار نہ رہو۔کیوں تم میں سے بعض لوگ معمولی تکلیفوں سے گھبرا جاتے ہیں ، کیوں مصیبت کے وقت ان کے قدم لڑکھڑا جاتے ہیں اور کیوں ابتلاؤں کے وقت ٹھو کر کھا جاتے ہیں اسی لئے کہ یہ بات تمہارے ذہن میں نہیں کہ تمہاری جان تمہاری نہیں بلکہ خدا اور اس کے رسول اور اس کے سلسلہ کی ہے۔تم جب جماعت میں داخل ہوتے ہو تو یہ سمجھ لیتے ہو کہ تم نے ایک آنہ فی روپیہ چندہ دینا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ تو روپیہ میں سے پندرہ آنے بھی قبول کرنے کو تیار نہیں۔میں تو سمجھ بھی نہیں سکتا کہ ایک جاہل بھی ایسا خیال کرتا ہو کہ روپیہ میں سے پندرہ آنے لے کر اللہ تعالیٰ راضی ہو جائے گا آخر کیا چیز ہے جس کو تم پیش کرتے ہو۔یاد رکھو کہ اس زمانہ کو خدا تعالیٰ نے ذوالقرنین کا زمانہ کہا ہے تم نے قرآن مجید میں پڑھا ہوگا کہ لوگوں نے اس سے کہا ہم تمہیں روپیہ دیتے ہیں ذوالقرنین نے اس کے جواب میں کہا کہ مجھے روپیہ کی ضرورت نہیں بلکہ میری فتوحات اور ذرائع سے ہوں گی۔میں اس تفصیل میں نہیں پڑنا چاہتا کہ وہ کیا ذرائع تھے جن سے ذوالقرنین کام لینا