خطبات محمود (جلد 16) — Page 354
خطبات محمود ۳۵۴ سال ۱۹۳۵ء مستقبل کے متعلق کوئی اہم فیصلہ کرنا ہوگا۔ہمیں دیکھنا ہو گا کہ آیا پنجاب میں ہم امن سے رہ سکتے ہیں یا نہیں اور اگر رہ سکتے ہیں تو کس طریق پر۔اس کے بعد ضروری ہوگا کہ ہم ایسا طریق اختیار کریں جو جماعت کی عزت اور اس کے وقار کا موجب ہو اور اس کے لئے میں قبل از وقت جماعت کو تیار کرنا چاہتا ہوں۔میں جماعت کو یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ دنیا میں ہمیشہ دو طرح لڑائی کی جاتی ہے اور جب سے کہ عالم کا آغاز ہوا وہی دو طریق ہیں جن کے ساتھ لڑائی ہوئی یا تو جھوٹ کے ساتھ لڑائی ہوتی ہے یا سچ کے ساتھ لڑائی ہوتی ہے۔جھوٹ کے ساتھ لڑائی کرنے کی مثال وہی ہے جو احراریوں کی ہے کچھ مزدور مٹی ڈالنے کے لئے جاتے ہیں مگر مشہور یہ کر دیا جاتا ہے کہ احمدی حملہ کرنے آئے۔مالکوں کا ایک نمائندہ پولیس کو اطلاع دینے کے لئے جاتا ہے، اسے بھی حملہ کرنے والوں میں شمار کر لیا جاتا ہے۔کچھ لوگ فوٹو کے کیمرے ساتھ لے جاتے ہیں تو انہیں پیٹتے اور مشہور کر دیتے ہیں کہ وہ حملہ کرنے آئے چنانچہ اخبار ”زمیندار“ اور ” احسان میں یہی کچھ شائع ہوا ہے۔پس جو مز دورمٹی ڈالنے کے لئے گئے ، وہ بھی حملہ کرنے والے بن گئے جو مالکوں کا نمائندہ پولیس کو اطلاع دینے کے لئے گیا وہ بھی حملہ کرنے والا بن گیا اور جو فوٹو لینے کے لئے گئے وہ بھی حملہ آور قرار پا گئے۔پھر ان چار پانچ آدمیوں کے جانے کو اور زیادہ بڑھایا گیا اور کہا گیا جماعت احمدیہ حملہ آور ہوئی اور غیر احمدیوں کے قبرستان پر حملہ آور ہوئی۔باہر کے لوگ اس جھوٹ کی اہمیت نہیں سمجھ سکتے مگر تم جو قادیان کے رہنے والے ہو سمجھ سکتے ہو کہ یہ کتنا بڑا جھوٹ ہے جو بولا گیا جس میں ایک فیصدی بھی سچ نہیں اور پھر یہ جھوٹ بولنے والے وہ ہیں جو آٹھ کروڑ مسلمانانِ ہند کے نمائندہ کہلاتے اور بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔پس ایک تو جنگ کا یہ طریق ہے کہ فریق مقابل کو بد نام کرنے کیلئے جھوٹ بولا جائے اور نہایت دلیری و بیبا کی سے اسے لوگوں میں پھیلایا جائے پھر آگے اس جھوٹ کے بھی کئی مدارج ہوتے ہیں کوئی سو فیصدی جھوٹ بولتا ہے کوئی نوے فیصدی جھوٹ بولتا ہے کوئی اسی فیصدی جھوٹ بولتا ہے کوئی ستر فیصدی جھوٹ بولتا ہے کوئی ساٹھ فیصدی جھوٹ بولتا ہے کوئی پچاس فیصدی جھوٹ بولتا ہے پھر کوئی موقع ومحل کے مناسب حال جتنا جی چاہے جھوٹ بول لیتا ہے کبھی تھوڑ ا جھوٹ بولتا ہے اور کبھی زیادہ۔لیکن ایک اور طریق مقابلہ بھی ہے اور وہ یہ کہ ہمیشہ سچائی کو اختیار کیا جائے یہ وہ طریق