خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 353 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 353

خطبات محمود ۳۵۳ سال ۱۹۳۵ء کے لئے جاتے ہیں اور جب ان سے ٹوکریاں وغیرہ چھین لی جاتی ہیں اور چند اور آدمی اور چند فوٹو کے کیمرے لے کر فوٹو اتارنے کے لئے جاتے ہیں تو ان پر حملہ کر دیا جاتا ہے حالانکہ کبھی ظالم بھی فوٹو لیا کرتا ہے؟ وہ تو کیمروں کو توڑا کرتا ہے تا کہ اس کے ظلم کا کوئی نشان قائم نہ رہے لیکن انہوں نے فوٹو لئے جو ثبوت ہے اس بات کا کہ وہ ظالم نہ تھے لیکن فوٹو لینے والوں پر حملہ کر کے ان کے کیمرہ کو توڑ دیا جاتا اور یہ جھوٹی خبر شائع کر دی جاتی ہے کہ مرزا بشیر احمد صاحب اور مرزا شریف احمد صاحب موقع پر موجود تھے لیکن ڈر کے مارے بھاگ گئے۔غرض ہمارے خلاف احرار کی طرف سے وہ وہ کام کئے جاتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں آزاد سرحدی علاقہ میں بھی نہیں کئے جا سکتے اس لئے کہ اگر وہاں کوئی شخص اس قسم کی حرکت کرتا ہے تو سمجھتا ہے کہ اس کا مد مقابل بھی اسی قسم کے ہتھیاروں سے کام لے کر اسے جواب دے گا اور اپنی طاقت سے اس کی طاقت کو توڑ دے گا لیکن یہاں یہ لوگ جانتے ہیں کہ احمدی اگر دفاع بھی کریں گے تو ہم یہی شور مچادیں گے کہ انہوں نے حملہ کیا ہے اور اگر وہ روایت درست ہے جو پولیس کے ایک جھوٹے افسر کے متعلق بیان کی جاتی ہے تو احرار کو یہ یقین ہے کہ پولیس کا ایک حصہ ان کی مدد کرے گا اور خود احمد یوں پر ہی فائر کر دے گا۔یہ باتیں قادیان میں ہوتی ہیں لیکن ابھی تک حکام بالا کی اس طرف توجہ نہیں ہوئی۔میں ان واقعات کو دُہرا کر گورنمنٹ پر الزام نہیں لگانا چاہتا کیونکہ یہ باتیں نہایت آخری ایام کی ہیں اور ابھی تک ان پر اتنا وقت نہیں گزرا کہ میں حکومت پر الزام رکھ سکوں کیونکہ اس قدر قلیل عرصہ میں حکومت پنجاب فی الواقع کوئی کارروائی نہیں کر سکتی تھی لیکن میں اس سے یہ ظاہر کرنا چاہتا ہوں کہ دشمن کو اس حد تک جرات ہوگئی ہے وہ سمجھتا ہے میں جو کچھ چاہوں کر سکتا ہوں۔بہر حال تین چار ہفتوں تک پتہ لگ جائے گا کہ گورنمنٹ کیا کرنا چاہتی ہے اور اس کے نزدیک احمدی مظلوم اور احرار ظالم ہیں یا ابھی تک وہ بعض افسروں کے سکھائے ہوئے بیان کے مطابق یہ بجھتی ہے کہ احمدی دوسروں پر سختی کر رہے ہیں ان واقعات کے بعد بھی اگر گورنمنٹ نے کوئی توجہ نہ کی اور نہ کوئی ایسا قدم اُٹھایا جو ان مظالم کو روکے تو سوائے یہ یقین کرنے کے ہمارے لئے کوئی چارہ نہ رہے گا کہ گورنمنٹ ایسے لوگوں سے گھر گئی ہے جو سچی بات اُس تک نہیں پہنچاتے اور اس کوشش میں رہتے ہیں کہ وہ حق کو معلوم نہ کر سکے اس لئے آئندہ تین چار ہفتے ہمارے لئے نہایت ہی اہم ہیں ان ہفتوں میں ہمیں اپنے