خطبات محمود (جلد 16) — Page 350
خطبات محمود ۳۵۰ ٢٣ سال ۱۹۳۵ء سچائی پر قائم ہوجاؤ، اللہ تعالیٰ پر توکل کرو اور دعاؤں میں لگ جاؤ فرموده ۲۱ / جون ۱۹۳۵ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد کے فرمایا: جس رنگ میں ہماری جماعت کی مخالفت ان ایام میں ہو رہی ہے ، وہ خود اپنی ذات میں اس امر کی دلیل ہے کہ بانی سلسلہ عالیہ احمد یہ اُسی سلک میں منسلک ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے ابتدائے عالم سے شروع کر کے انتہائے عالم تک لے جانے کا وعدہ کیا ہوا ہے یعنی مامورین کی وہ جماعت جو دنیا کو گمراہی اور ضلالت سے نکال کر صداقت اور راستی کی طرف لاتی ہے۔انتہائی عداوت انسان کو دیوانہ بنادیتی اور ہر قسم کے خوف سے آزاد کر دیتی ہے یہی بات ہمیں آج بھی نظر آتی ہے کہنے کو کہا جاتا ہے کہ ہندوستان ایک مہذب حکومت کے ماتحت ہے ایسی حکومت کے ماتحت جو قانون کا احترام کرتی اور قانوں کا احترام کرنا سکھاتی ہے لیکن ہمارا گزشتہ دنوں کا تجربہ بتاتا ہے کہ ایسی زبر دست حکومت کے ماتحت ایسی حکومت جو قانون کے احترام کے لئے مشہور ہے ہمارے معاملہ میں قانون کا احترام کرنے سے قاصر رہ گئی ہے کیونکہ ہمارے مقابلہ میں ایک ایسی جماعت ہے جو جھوٹ اور فریب سے انتہائی درجہ کا کام لیتی ہے حق کو حکومت پر مشتبہ کرتی رہتی ہے ایک نو جوان اُٹھتا ہے اور ایک جھوٹی کہانی بنا کر لاہور کے ایک یزیدی اخبار میں چھپوا دیتا ہے پھر وہ