خطبات محمود (جلد 16) — Page 338
خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء غرض اب بھی وقت ہے دنیا اس نشان کو سمجھے اور اپنے اندر تبدیلی پیدا کرے۔دیکھو ! موت کوئٹہ میں نہیں آئی بلکہ سارے پنجاب میں آئی ہے کوئی ضلع ایسا نہیں جس میں سے کچھ لوگ کوئٹہ میں نہ تھے کوئی ضلع ایسا نہیں جہاں سے لوگ نہ مرے ہوں پس آج پنجاب کے ہر بڑے شہر میں ماتم بپا ہے اور بہت سے دیہاتوں میں بھی ماتم پڑا ہوا ہے ہمارا فرض ہے ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیشگوئی کو دنیا تک پہنچا ئیں اور اسے توجہ دلائیں کہ اب بھی وقت ہے وہ ہماری مخالفت چھوڑ دے ورنہ نہ معلوم خدا تعالیٰ کی غیرت اسے اور کیا کچھ دکھائے گی۔صاف الفاظ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتابوں میں تحریر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ میری صداقت کے نشان ہیں جو پورے ہو کر رہیں گے جب تک دنیا مخالفت نہیں چھوڑتی ہمارا فرض ہے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ کولوگوں تک پہنچائیں مگر اس کے ساتھ ہی ہمارا یہ بھی فرض ہے کہ جو لوگ مارے گئے ہیں ان کے پسماندگان اور مجروحین کی امداد کریں۔میں نے اس کے لئے ایک اعلان کیا ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ اس مصیبت کا احساس کرتے ہوئے جو کوئٹہ میں نازل ہوئی ہمارے احباب چندہ ینے میں بخل سے کام نہیں لیں گے۔اس میں شبہ نہیں ہماری جماعت پر سلسلہ کے کاموں کا بوجھ ہے مگر مؤمن کا یہ کام نہیں کہ وہ قربانی کے کسی موقع سے دریغ کرے پس ہمارا فرض ہے کہ ہم مصیبت زدہ لوگوں کی امداد کریں تا انہیں معلوم ہو کہ ہمارے دل ان کی تکلیف پر خوش نہیں بلکہ زیادہ دُکھی ہیں ہاں اس کے ساتھ ہم مجبور ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اس نشانِ صداقت کو وضاحت سے بیان کریں مگر اس میں کوئٹہ یا بہار والوں کی خصوصیت نہیں اگر ہمارا کوئی بچہ بھی پیشگوئی کے مطابق مر جائے تو ہمیں اس کی موت پر جہاں غم ہوگا وہاں خوشی بھی ہوگی کہ خدا تعالیٰ کی بات پوری ہوئی۔ہمارا چھوٹا بھائی مبارک احمد جب فوت ہوا تو چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس سے بہت محبت تھی اس لئے لوگوں کو خیال تھا کہ آپ کو اس کی وفات کا بہت صدمہ ہوگا لیکن جب آپ گھر سے باہر تشریف لائے تو بیٹھتے ہی آپ نے جو تقریر کی اُس میں فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابتلا ء ہے اور ہماری جماعت کو اس قسم کے ابتلاؤں پر غم نہیں کرنا چاہئے پھر فرمایا مبارک احمد کے متعلق فلاں وقت مجھے الہام ہوا تھا کہ یہ چھوٹی عمر میں اُٹھا لیا جائے گا اس لئے یہ تو خوشی کا موجب ہے کہ خدا تعالیٰ کا نشان پورا ہو ا۔پس ہمارا اپنا بھائی، بیٹا، یا کوئی اور عزیز رشتہ دار اگر مر جائے اور اُس کی وفات کے