خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 312

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء نے ان کے خلاف اخبار الفضل میں کبھی کچھ نہیں کہا آپ مخالفت ہی کریں مگر لکھیں تو سہی۔میں نے انہیں جواب دیا کہ آپ کا غصہ بجا ہے مگر مخالفت بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ملتی ہے اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو کھڑا کر دیتا ہے جن کی فطرت گندی ہوتی ہے اور گالیاں دینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ایک لطیفہ مشہور ہے کہ کوئی بوڑھا آدمی کسی حکیم کے پاس گیا کہ مجھے فلاں بیماری ہے۔اس نے کہا بڑھاپے کی وجہ سے۔اس نے کہا قبض بھی ہے۔اس نے جواب دیا بڑھاپے کے باعث ہے۔اس نے کہا کھانسی کی بھی شکایت ہے۔حکیم نے کہا بڑھاپے کا نتیجہ ہے۔بوڑھے نے کہا بھوک نہیں لگتی۔حکیم نے کہا بڑھاپے کا اثر ہے۔اس پر بوڑھے کو طیش آ گیا اور اس نے کہا میں تو اس خبیث کے پاس علاج کے لئے آیا تھا مگر یہ ہر بات پر بڑھاپا بڑھا پا کرتا جاتا ہے اور اسے گالیاں دینے لگ گیا حکیم نے سب کچھ سن کر کہا یہ بھی بڑھاپا ہے۔صحیح بات یہی ہے کہ ان لوگوں کا اس طرح گالیاں دینا ان کی گندی فطرت پر دلالت کرتا ہے اور تم خوش ہو کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایسی قوم سے نکال لیا جس کے اخلاق اس قد رگر چکے ہیں اور جس کے لیڈر اس قدر گندے ہیں۔( الفضل ۷ رمئی ۱۹۳۵ء) ل ال عمران : ۱۲۰ الملک: ۲۳