خطبات محمود (جلد 16) — Page 25
خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء ہمیں مالی لحاظ سے گو معتد بہ فائدہ نہیں ہو گا لیکن اپنے اخلاص کے اظہار کا انہیں ایک موقع مل جائے گا جو بذات خود ایک نہایت ہی قیمتی چیز ہے۔بنگال کو خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ فضیلت حاصل ہے کہ پنجاب کے بعد زیادہ کثرت اور سُرعت کے ساتھ بنگال میں ہی ہماری جماعت پھیلنی شروع ہوئی ہے۔شاید بنگال اور پنجاب کے لوگوں میں کوئی مناسبت ہے کیونکہ اسلام بھی پہلے پنجاب میں پھیلا اور پھر بنگال میں۔جتنے قلیل عرصہ میں بنگال کی جماعت پھیلی ہے اتنے عرصہ میں کوئی اور جماعت نہیں پھیلی۔یوں تو بہار میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کئی صحابی موجود ہیں، اسی طرح یو۔پی میں مگر بنگال میں بہت بعد احمدیت گئی اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اس نے جلد جلد ترقی کی۔گو یہ جلدی ایسی نہیں جو بنگال کی آبادی کے لحاظ سے ہو مگر بہر حال دوسرے صوبوں کے لحاظ سے اس نے ترقی کی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ان لوگوں کا حق تھا کہ گور قم کے لحاظ سے ان کی طرف سے قلیل روپیہ آئے مگر انہیں اپنے اخلاص کے دکھانے کا موقع دیا جائے۔باقی باہر کی جماعتیں ہیں اور کچھ وہ لوگ بھی جنہیں ابھی تک اس تحریک کی خبر نہیں ہوئی اور گو ایسے لوگ بہت قلیل ہیں مگر بہر حال ہوتے ضرور ہیں۔چنانچہ پرسوں ہی مجھے ایک خط آیا کہ مجھے اس تحریک کی ابھی ابھی اطلاع ملی ہے کیونکہ میں سفر پر تھا اور مجھے اخبار دیکھنے کا موقع نہیں ملا۔پس ہو سکتا ہے کہ ہندوستان میں بھی ایسے بے خبر لوگ موجود ہوں مگر یہ قلیل تعداد ہے۔اور ہمیں سمجھنا چاہئے کہ ان تمام حالات کو دیکھ کر انداز ۷۵ ہزار کے لگ بھگ وعدے ہو جائیں گے جو میرے مطالبہ سے اڑھائی گنے سے زیادہ یعنی پونے تین گنے کی رقم ہے۔ان رقوم کے علاوہ جو کام دوسرا تھا اس میں دو کمیٹیوں نے کام شروع کر دیا ہے۔پروپیگنڈا کمیٹی نے بھی کام شروع کر دیا ہے اور امانت کمیٹی نے بھی اپنے اجلاس شروع کر دیئے ہیں۔گو عملی کام ابھی اس نے شروع نہیں کیا مگر امید ہے کہ یہ دونوں قسم کے کام اس مہینہ میں اچھی طرح شروع ہو جائیں گے۔امانت میں جن دوستوں نے اپنے نام لکھوائے ہیں خواہ وہ قادیان میں رہتے ہوں یا باہر ان سب کو میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ چونکہ یہ ان کے اخلاص کا امتحان ہے اس لئے اس تحریک میں زیادہ یاد دہانیاں نہیں کرائی جائیں گی۔اگر کوئی شخص با قاعدہ چندہ نہیں دے گا تو دفتر امانت ایک دو یاد دہانیوں کے بعد اس کا نام رجسٹر سے کاٹ ڈالے گا اور سمجھا جائے گا کہ اس نے اپنے اخلاص کا محض مظاہرہ کیا تھا، حقیقت اس میں نہیں تھی۔پس دوست