خطبات محمود (جلد 16) — Page 304
خطبات محمود ۳۰۴ سال ۱۹۳۵ء سکتا کہ اب جو ترقی ہو رہی ہے وہ حکومت کی مدد سے ہوتی ہے۔گندی سے گندی گالیاں ہمیں دی جاتی ہیں ، احمدی عورتوں پر ناپاک الزام لگائے جاتے ہیں مگر پولیس والے چپ چاپ بیٹھے سنتے بلکہ ان کی پیٹھ ٹھونکتے ہیں اور گالیاں دینے والوں کو بلا بلا کر ان سے مشورے کرتے ہیں اور ان سب باتوں کا کوئی علاج نہیں کیا جاتا۔میں سمجھتا ہوں یہ دور بھی ہم پر اللہ تعالیٰ کی خاص مصلحت کے ماتحت آیا ہے اللہ تعالیٰ یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ احمدیت انگریزوں کی مدد سے ترقی نہیں کر رہی جب یہ دور ختم ہو جائے گا تو بالا افسروں کو خود بخود توجہ ہو جائے گی اور وہ محسوس کریں گے کہ ان کے ماتحتوں نے غلطی کی۔پھر برطانوی انصاف جس کی ہم ہمیشہ سے تعریف کرتے آئے ہیں قائم ہوگا یہ درمیانی دور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اس لئے ہے کہ تا یہ الزام ہم پر نہ رہے کہ یہ جماعت انگریزوں کی مدد سے ترقی کر رہی ہے۔اب قادیان میں کئی معزز غیر احمدی اور ہندو آتے ہیں اور حالات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر حیران ہوتے ہیں کہ ہم تو سمجھتے تھے یہ جماعت حکومت کی خاص حفاظت میں ہے مگر آپ لوگ تو یہاں ہتیں دانتوں میں زبان کی حیثیت رکھتے ہیں غرض اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیں فائدہ ہی ہو رہا ہے وقت آئے گا کہ اللہ تعالیٰ پنجاب کے افسروں پر حقیقت کھول دے گا اُس وقت ان ما تحت افسروں سے بھی باز پرس ہو جائے گی جو ہم پر ظلم کر رہے ہیں اور ہمارے ظلم کا بھی ازالہ ہو جائے گا مگر ہم تو کسی بندے سے ازالہ کے خواہاں ہی نہیں ہیں ہاں ہم امید رکھتے ہیں کہ وہ خود اپنا فرض ادا کریں گے کیونکہ ہمارا انگریزوں سے ہمیشہ تعاون رہا ہے ورنہ ہمارا اعتماد اور امید تو اللہ تعالیٰ پر ہی ہے اور ہمیں یقین ہے کہ وہ ایک ایک چیز کا بدلہ ایسا لے گا کہ دنیا یا درکھے گی۔مصر کے ایک بزرگ کے متعلق لکھا ہے کہ جس محلہ میں وہ رہتے تھے وہاں کے لوگ ان پر اور ان کے بیوی بچوں پر طرح طرح کے الزام لگاتے رہتے تھے انہوں نے بہتیر سمجھایا اور کہا کہ خدا سے ڈرو مگر ان لوگوں نے ایک نہ مانی آخر خدا تعالیٰ کی طرف سے گرفت ہوئی۔اس محلہ والوں میں بدکاری پھیلی اور یہاں تک پھیلی کہ اب وہ کنچنیوں کا محلہ ہے۔پس ان باتوں سے ہمارا تو کچھ نہیں بگڑتا یہ لوگ اپنے اخلاق بگاڑتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کے غضب کو بھی اپنے اوپر بھڑکاتے ہیں۔عجیب بات یہ ہے کہ یہ لوگ ایک طرف تو کہتے ہیں ہم حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف جان نکلتی جا رہی ہے ذرا کوئی بات ہو تو