خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 303 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 303

خطبات محمود ۳۰۳ سال ۱۹۳۵ء ہمیں ملی ہیں اور بعض لوگوں نے بتایا ہے کہ حکام ان سے کیا کچھ کہتے رہے میں ان باتوں کا اعلان بعد میں کروں گا لیکن یہ ابھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ بعض مزید سوالات ایسے کئے جا سکتے تھے جن سے ان اعتراضات کا حل ہوسکتا جو ہم پر کئے گئے ، مگر وہ نہیں کئے گئے اور اس طرح بعض امور کو مشتبہ ہی رہنے دیا گیا حالانکہ مقامی حکام کا فرض تھا کہ جو باتیں ہم پر اعتراض بنتی تھیں اُن کو حل کراتے کیونکہ ہماری جماعت کی عزت گورنمنٹ کے ہاتھ میں تھی مگر پھر بھی ہمیں کوئی شکوہ اور گلہ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہماری بریت کر دی۔تو میں بتا یہ رہا تھا کہ یہ الزام حکومت پر عائد ہوتا ہے لیکن یا درکھنا چاہئے جب میں گورنمنٹ کا لفظ بولتا ہوں تو میری مراد ان ذمہ دار حکام سے ہے جن کا براہِ راست اس سے تعلق تھا خواہ ان کا سلسلہ ضلع تک ہی ختم ہو جاتا ہو یا با ہر تک جاتا ہو۔ہم نہیں کہہ سکتے کہ یہ کہاں تک جاتا ہے پھر اس فیصلہ میں بھی ایک ایسا ریمارک ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت نے اپنے فرائض کی ادا ئیگی میں کوتاہی کی ہے۔عدالت نے لکھا ہے کہ ملزم کی تقریر کے دو حصے ہیں ایک حکومت کے خلاف اور ایک جماعت احمدیہ کے خلاف۔ایک حصہ میں حکومت پر حملے کئے گئے ہیں اور دوسرے میں جماعت احمد یہ پر۔اب سوال یہ ہے کہ حکومت نے اس حصہ کی بناء پر مقدمہ کیوں نہ چلا یا جو اس کے خلاف تھا اور کیوں اس حصہ پر چلا یا جو ہمارے خلاف تھا ہمارے خلاف حصہ کی بناء پر مقدمہ چلانے میں تو مذہبی اختلاف کی وجہ سے شورش ہو سکتی تھی جیسے اب ہو رہی ہے لیکن اگر حکومت اس حصہ کی بناء پر مقدمہ چلاتی جو اس کے خلاف تھا تو اس قسم کی کوئی شورش بھی نہ ہوسکتی۔پس یہ ایک معمہ ہے عدالت نے تسلیم کیا ہے کہ تقریر کا ایک حصہ حکومت کے خلاف تھا پھر یہ راز سمجھ میں نہیں آتا کہ حکومت کیوں ہماری تو خیر خواہ بنتی ہے مگر اپنی نہیں بنتی۔کیوں نہیں بنتی۔یہ ایک معمہ ہے تو میں بتا رہا تھا کہ ان گالیوں سے یا تو اعتراض حکومت پر آتا ہے کہ انہوں نے اپنی ذمہ داری کو نہیں سمجھا یا احرار پر کہ انہوں نے نہ صرف یہ کہ اسلامی اخلاق کو بھلا دیا ہے بلکہ بگاڑ دیا ہے ہمارا تو فائدہ ہی فائدہ ہے ہم اگر خاموش رہتے ہیں تو ثواب ملتا ہے اور اگر تبلیغ کرتے ہیں اور ان گالیوں کو سن کر اپنے اوقات اور جان و مال سلسلہ کی ترقی کے لئے وقف کر دیتے ہیں تو ثواب کے علاوہ ترقی بھی حاصل ہوتی ہے۔پھر اس سے لوگوں کو یہ بھی دیکھنے کا موقع ملتا ہے کہ جماعت احمدیہ انگریزوں کی مدد سے ترقی نہیں کر رہی۔پہلے یہ اعتراض کیا جاتا تھا مگر اب تو ضلع گورداسپور بھی ہمارے لئے صوبہ سرحد بنا ہوا ہے اس لئے نہیں کہا جا