خطبات محمود (جلد 16) — Page 283
خطبات محمود ۲۸۳ سال ۱۹۳۵ء آسان ہے ہم بھی احمدیوں کو عام مسلمانوں سے الگ کر دیں اور انہیں کہیں کہ وہ حکومت سے زیادہ حقوق کا مطالبہ کریں اس پر مولانا محمد علی صاحب نے جو اس جلسہ کے صدر تھے بڑی سختی سے ان مولوی صاحب کو ڈانٹا اور کہا کہ کیا تم اسلام کے دوست ہو یا دشمن؟ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ مسلمانوں میں پہلے ہی کافی تفرقہ ہے تم چاہتے ہو کہ ان میں اور زیادہ تفرقہ پیدا کر دو مگر وہاں صدر مولانا محمد علی صاحب تھے اور صوبہ بہار تھا اور اب جو سوال پیش ہو رہا ہے وہ پنجاب میں پیش ہے اور سوال اٹھانے والے مولوی ظفر علی صاحب ، چوہدری افضل حق صاحب، مولوی حبیب الرحمن صاحب اور سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری جیسے انسان ہیں۔یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ وہ اس طرح ہمیں نقصان پہنچا رہے ہیں حالانکہ ہمیں نقصان کس طرح پہنچ سکتا ہے ؟ کہا جاتا ہے ہم چھپن ہزار ہیں اور اگر چہ ہم اُس وقت بھی چھپن ہزار نہیں تھے جبکہ مردم شماری ہوئی اور اب تو مردم شماری پر بھی تقریبا پانچ سال گزر چکے ہیں اگر اس وقت ہماری تعداد ایک لاکھ بھی سمجھ لی جائے تب بھی حکومت کو ایک نمائند ہمار ا ضرور لینا پڑے گا کیونکہ اقلیتوں کو ان کی نسبت سے زیادہ حقوق دیئے جاتے ہیں پس اگر ہماری جماعت کو ایک نمائندگی مل جائے تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس لحاظ سے مسلمانوں کی ایک ممبری کم ہو جائے گی اگر مسلمانوں کی ایک ممبری اس طرح عام کانسٹی چیوانسی (CONSTITUENCY) سے کم کر دی جائے تو امکان ہے کہ خاص حالات کے پیدا ہونے پر جیسے نامزدگیاں وغیرہ ہوتی ہیں، ایک اور احمدی بھی ممبر بن جائے مسلمانوں کی کل ممبریاں اسمبلی میں ۸۹ سمجھی جاتی ہیں اگر ۸۹ میں سے دو نکال دی جائیں تو مسلمانوں کی ممبریاں ۸۷ رہ جاتی ہیں چونکہ گل ۱۷۵ ممبریاں ہوں گی اس لئے ۸۸ کے مقابلہ میں ۸۷ مسلمانوں کی ممبریاں رہ جائیں گی جس کے معنی یہ ہیں کہ وہ ہمیں اپنے میں سے نکال کر اپنے آپ کو اقلیت بناتے اور اپنے قومی فوائد کو خطرناک نقصان پہنچاتے ہیں۔لیکن کسی نے کہا ہے ایاز قدرے خود را بشناس یہ مسلمانوں کے نمائندے ہی کب بنے ہیں اور کب انہیں کسی نے اختیار دیا ہے کہ جن کے متعلق ان کا جی چاہے انہیں مسلمانوں میں سے خارج قرار دے دیں پنجاب میں سے مسلمانوں کا بیشتر حصہ ایسا ہے جو ان لوگوں کی رائے کو اتنی وقعت دینے کے لئے بھی تیار نہیں جتنی وقعت ایک معمولی عقل و سمجھ رکھنے والے انسان کی بات کو دی جاتی ہے۔منہ سے یہ کہ دینا کہ ہم آٹھ کروڑ مسلمانانِ ہند کے