خطبات محمود (جلد 16) — Page 282
خطبات محمود ۲۸۲ سال ۱۹۳۵ء دماغی توازن کھو چکا ہے اور وہ ذرا ذراسی بات پر جوش میں آجاتا ہے اور ایسے کاموں کا اقدام کر لیتا ہے جو خود ان کے لئے بھی مضر ہوتے ہیں۔چونکہ شہر عام طور پر دوسروں کے لئے نمونہ سمجھے جاتے ہیں اس لئے ان کا اثر بطور صدائے بازگشت چھوٹے شہروں اور قصبات پر بھی پڑتا ہے مگر اس کی حدت اور تیزی چند شہروں میں ہی پائی جاتی ہے جیسا کہ لاہور ہے، امرتسر ہے ،سیالکوٹ ہے، گوجرانوالہ ہے، لدھیانہ ہے، بٹالہ ہے بقیہ شہروں میں اس وقت وہ بات نظر نہیں آتی جو ان میں پائی جاتی ہے۔سیالکوٹ کی حالت بھی اب پہلی سی نہیں رہی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کا وہ طبقہ جو جلدی پر یشان ہو جاتا یا دوسروں کو پریشان کر دینے کا عادی ہے یا تو اپنی غلطی کو سمجھ گیا ہے یا تھک کر آرام کر رہا ہے جس گروہ کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے ، ان سے احرار کا گروہ مراد ہے اور موجودہ فتنہ سے مرادان کی وہ تحریکات ہیں جو جماعت احمدیہ کے متعلق وہ کچھ عرصہ سے کر رہے ہیں وہ تحریکات مسلمانوں کے لحاظ سے اتنی خطرناک اور نقصان دہ ہیں کہ بعض دفعہ یقین ہی نہیں آتا کہ وہ خود اس کے بانی ہوں بعض دفعہ خیال آتا ہے کہ ممکن ہے کہ ان کے پیچھے کوئی اور محرک ہو شاید بعض ایسی جماعتیں اس تحریک کی محرک ہوں جو جماعت احمدیہ کو اپنے رستہ میں حائل سمجھتی ہیں اور خیال کرتی ہیں کہ اس جماعت کی وجہ سے ان کا مسلمانوں پر حملہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔پس بعض دفعہ خیال آتا ہے کہ ممکن ہے کہ ایسی جماعتوں نے ان کو اپنا آلہ کار بنا لیا ہومگر چونکہ اس کا کوئی بدیہی ثبوت نہیں ملتا اس لئے عقل چکر کھا کر اس بات کی طرف آجاتی ہے کہ ان کی عقلیں ہی ماری گئی ہیں اور وہ مسلمانوں کے فوائد کو نہیں سمجھتے۔پچھلے دنوں سے متواتر یہ تحریک کی جارہی ہے اور یہاں جو احرار کا نفرنس ہوئی تھی اس میں بھی کہا گیا تھا کہ احمدیوں کو مسلمانوں میں شمار نہ کیا جائے بلکہ انہیں مسلمانوں میں سے نکال دیا جائے اور غیر مسلم تصور کیا جائے۔یہ سوال موجودہ زمانہ میں جبکہ مسلمان پہلے ہی ہندوستان میں اقلیت ہیں اور جبکہ ان کی حالت خطرناک ہو رہی ہے، کسی عقلمندی اور دانش کا نتیجہ نہیں کہلا سکتا چند سال ہوئے ایک دفعہ پٹنہ میں مسلمانوں کی میٹنگ ہوئی اور اس میں اسی موضوع پر گفتگو شروع ہوگئی مولا نا محمد علی صاحب جو علی برادرز میں سے تھے اور اب فوت ہو چکے ہیں اس جلسہ کے صدر تھے بہار کے ایک مولوی صاحب نے اس ذکر کے دوران میں کہ ہندوؤں کو سکھوں سے زیادہ طاقت مل رہی ہے کیونکہ وہ اقلیت میں ہو کر حکومت سے زیادہ حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں تمسخر کے طور پر کہ دیا کہ اس کا علاج