خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 272

خطبات محمود ۲۷۲ سال ۱۹۳۵ء میں داخل ہو کر اس پاک اور مقدس چشمہ کو گندہ کیا۔تم میں سے اس قسم کے لوگوں کی مثال بالکل اس شخص کی سی ہے جس کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ ملکہ گیا تو چشمہ زمزم میں پیشاب کرنے بیٹھ گیا لوگوں نے اسے مارا پیٹا تو وہ کہنے لگا پیشاب میں نے اس لئے کیا ہے کہ لوگ باتیں تو کریں گے کہ فلاں شخص آیا اور اس نے یہ حرکت کی۔یہی ان لوگوں کا حال ہے یہ تو خالص انبیاء اور ان کے خلفاء کا حق ہے کہ وہ کہیں فلاں کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔زید یا بکر کو کس نے حق دیا ہے کہ ان میں سے جس کا جی چاہے وہ اپنے میں سے کسی احمدی کے پیچھے نماز پڑھنے سے انکار کر دے۔میں تو سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی گالیاں دیتا ہے ، بُرا بھلا کہتا ہے، معاملات کے لحاظ سے خراب ہے ، حتی کہ وہ اپنے لوگوں کو مرتد بھی کہہ دیتا ہے، پھر بھی کسی کا حق نہیں کہ اس کے پیچھے نماز پڑھنی ترک کرے۔اور یہ بات میں نے اتنی بار کھول کھول کر بیان کی ہے کہ اگر ایک طوطے کو میں یہ سبق پڑھاتا تو وہ ضرور پڑھ جاتا مگر ہم میں سے بعض ایسی موٹی عقل کے آدمی ہیں کہ وہ معمولی معمولی باتوں پر لڑتے جھگڑتے اور یہ سوال پیدا کر دیتے ہیں کہ ہم فلاں کے پیچھے نماز نہیں پڑھیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا طریق عمل تمہارے سامنے ہے اسے دیکھ لو اللہ تعالیٰ آپ کو اشارے کر رہا ہے کہ غیر احمدیوں کے پیچھے نماز نہ پڑھی جائے مگر آپ ان کے پیچھے نماز پڑھنا نہیں چھوڑتے یہاں تک کہ خدا تعالیٰ صاف الفاظ میں کہتا ہے کہ تم پر حرام اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر یا مکذب یا متر ڈر کے پیچھے نماز پڑھو۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عمل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو کہتا ہے کہ آپ نبی ہیں مگر پھر بھی آپ ان کے پیچھے نماز ترک کرنے کا فتویٰ نہیں دیتے یہاں تک کہ خدا تعالیٰ اشارے چھوڑ کر نص صریح کے ذریعہ کہتا ہے کہ اب حرام اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر و مکذب وغیرہ کے پیچھے نماز پڑھی جائے جیسا کہ تحفہ گولڑویہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا ذکر کیا۔ایک طرف بانی سلسلہ احمدیہ کا یہ نمونہ ہے حالانکہ یہ ایک مذہبی سوال تھا اور اس ذات پر ایمان لانے کا سوال تھا جس کی بعثت کی خبر تمام انبیاء دیتے چلے آئے مگر آپ اشاروں کے باوجود نماز پڑھتے رہتے ہیں یہاں تک کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے تم پر غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنا حرام اور قطعی حرام ہے مگر ہماری جماعت کے بعض لوگوں کی یہ حالت ہے کہ وہ اتنی سی بات پر کہ فلاں شخص کیوں پریذیڈنٹ ہو گیا یا فلاں سیکرٹری کیوں بن گیا ناراض ہو کر کہ دیتے ہیں کہ ہم الگ جمعہ پڑھیں