خطبات محمود (جلد 16) — Page 245
خطبات محمود ۲۴۵ سال ۱۹۳۵ء نہیں کہلا سکتا اس قسم کا مقدمہ جن لوگوں پر ہو اُن سے عدالتیں بھی نرمی کا سلوک کیا کرتی ہیں تو مجھے یہ مشورہ دیا گیا کہ میں کسی کو جلسہ کرنے سے نہ روکوں مگر میں نے اسے پسند نہیں کیا کیونکہ میں یہ نہیں چاہتا کہ ہم رسمی طور پر بھی یہ الزام لیں بلکہ ہمارے آدمی تو اس قدر گو ہیں کہ دفعہ ۱۴۴ کے دوران میں ایک واقعہ ہوا جس کے کاغذات مجھے اس کے بعد دیکھنے کا اتفاق ہوا۔قادیان کے مختلف محلوں کے پریذیڈنٹوں نے ایک مجلس کی کہ خلیفہ امسیح کے پہرہ کا انتظام کس طرح کیا جائے ؟ ایک محلہ کے پریذیڈنٹ کو جب اس میں شامل ہونے کے لئے لکھا گیا تو اس نے جواب دیا کہ چونکہ دفعہ ۱۴۴ لگی ہوئی ہے اس لئے میں اس میں شامل نہیں ہو سکتا حالانکہ اس دفعہ کی رو سے بھی پرائیویٹ جلسوں کی ممانعت نہیں تھی اور نہیں ہو سکتی تو ہمارے آدمی تو قانون کے اس قدر پابند ہیں کہ اس دفعہ کے نفاذ کے بعد انہوں نے جلسوں کو سؤر کی طرح سمجھ لیا اور جن جلسوں کو حکومت نے نا جائز نہیں کہا تھا ان کو بھی نا جائز سمجھ لیا پس جو جماعت قانون کی اس قدر پابند ہو اس کے متعلق افسروں کو اس قدر وسیع اختیارات دے دینا کہ وہ بچوں کی مذہبی مجالس پر بھی باغیانہ ایکٹ لگادیں یہ نہ ایکٹ بنانے والوں کا منشاء تھا اور نہ حکومت کا۔اگر حکومت یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ ہم کہاں تک قانون کی پابندی کرتے ہیں اور وہ Test کرنا چاہتی ہے تو بے شک کرتی جائے وہ کبھی نہیں دیکھے گی کہ ہم قانون شکنی کریں لیکن میں یہ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ یہ Test حکومت کو مہنگا پڑے گا۔حکومت ضلع گورداسپور کے افسروں کا نام نہیں ، حکومت پنجاب کا نام نہیں ،حکومت ہند کا نام نہیں بلکہ تمام سلطنت برطانیہ کا نام ہے اب اگر یہ باتیں تمام سلطنت میں پھیلیں کہ چھوٹے چھوٹے طالب علموں کی مذہبی میٹنگ پر کریمنل لاءایمنڈ منٹ ایکٹ کا استعمال کر کے ایک درجن پولیس کے آدمی وہاں تعینات کر دیئے گئے تو تمام دنیا اسے ٹیررازم (Terrorism) سمجھے گی۔اسے ڈراوا اور دھمکی خیال کرے گی لندن کی پولیس نے ایک دفعہ ایک عورت کو بطور گواہ طلب کیا اس پر دو تین گھنٹے جرح کرتی رہی اس پر تمام انگلستان میں ایک شور مچ گیا کہ ایک عورت کو اس قدر پریشان کیا گیا ہے اور ایک مشہور جرنیل کو جو سارے انگلستان میں معزز تھا استعفیٰ دینا پڑا۔اگر دنیا کو یہ معلوم ہو کہ ضلع گورداسپور کے حکام دس سال کی عمر کے بچوں پر جو مذہبی لیکچروں کی مشق اپنے گھروں میں کرتے ہیں پولیس کی گارد متعین کر دیتے ہیں کہ ان کی باتوں کو نوٹ کریں اور نوٹ کرنے کے لئے آدمی بھیجنے کے یہی معنی ہو سکتے ہیں کہ ان باتوں کو قابلِ اعتراض خیال کیا جاتا ہے تو یہ ایک ایسی بات