خطبات محمود (جلد 16) — Page 223
خطبات محمود ۲۲۳ سال ۱۹۳۵ء گورنمنٹ جو کچھ کرنا چاہتی ہے کھلم کھلا کرے فرموده ۲۹ / مارچ ۱۹۳۵ء) تشہد اور تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: انسانی عادت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ اپنے گرد و پیش کی چیزوں کی نقل کرتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے فَأَبَوَاهُ يُهَوِدَانِهِ أَوْ يُنَصِرَانِهِ أَوْ يُمَحِسَانِه پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی بنا دیتے یا عیسائی بنادیتے یا زرتشتی بنادیتے ہیں۔یعنی فطرت تو اسلام کی ہی ہوتی ہے لیکن جو نہی کہ وہ آنکھیں کھولتا اور اس کا دماغ باتیں سمجھنے کے قابل ہوتا ہے وہ گرد و پیش کے حالات کی نقل کرنی شروع کر دیتا ہے حتی کہ ہوتے ہوتے اس کی فطرت اسلامیہ بالکل مٹ جاتی اور وہ یہودی، عیسائی یا مجوسی بن جاتا ہے۔یہ نقل کا مادہ اپنے اندر بہت بڑی خوبی بھی رکھتا ہے اور جیسا کہ اس حدیث سے پتہ چلتا ہے بہت بڑے نقائص بھی رکھتا ہے۔خوبی تو یہ ہے کہ نقل کے ذریعہ انسان دنیا میں بہت سے کام عمدگی اور سُرعت کے ساتھ کر سکتا ہے اگر نقل کا مادہ نہ ہوتا تو بہت تھوڑے کام کر سکتا۔اگر ہم دنیا کے ہرامر میں تحقیق کرنے لگیں تو سمجھ لو کہ ہم ساری عمر میں اتنا کام بھی نہیں کر سکتے جتنا اب ایک مہینہ میں کر لیتے ہیں۔مثلاً ہم کھانا کھانے لگیں تو پہلے اس بات کی تحقیق کریں کہ آیا ہما را معدہ بالکل خالی ہے یا نہیں۔اور کیا ایسا تو نہیں کہ کچھ کھانا معدہ میں موجود ہو اور ہم کھانے کے لئے بیٹھ گئے ہوں۔ایسی حالت میں یا تو مثلاً معدہ کو دھلوا کر اس کا پتہ لگا ئیں یا کسی ڈاکٹر کے پاس جائیں اور اس سے دریافت کریں۔اب دیکھ لو اگر ہم اس طرح کرنے لگیں تو ہمارا سارا دن