خطبات محمود (جلد 16) — Page 211
خطبات محمود ۲۱۱ ۱۲ سال ۱۹۳۵ء اجتماعی عبادت اور دعاؤں کی تحریک (فرموده ۲۲ مارچ ۱۹۳۵ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔میں نے دو جمعے گزرے کہ جماعت کو خصوصیت کے ساتھ سات روزے رکھنے اور اس فتنہ کے بارے میں جو اس وقت جماعت کے خلاف اُٹھ رہا ہے دعائیں کرنے کے لئے کہا تھا مجھے افسوس ہے کہ ہمارے سلسلہ کے اخبارات نے اس مضمون کو وہ اہمیت نہیں دی جو دینی چاہئے تھی یعنی اس اعلان کو صرف ایک دفعہ شائع کر کے بند کر دیا حالانکہ ہزار ہا لوگ ایسے ہیں جو کبھی اخبار کا کوئی صفحہ پڑھ لیتے ہیں اور کبھی کوئی انہیں اتنی فرصت نہیں ہوتی کہ سارا اخبار پڑھیں۔اشاعت کا اصول اس امر کا متقاضی ہے کہ مضمون کو تکرار کے ساتھ اور بار بار مختلف شکلوں میں سامنے لایا جائے لیکن ایسا نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے بالکل ممکن ہے کہ ہزاروں ایسے لوگ ہوں جو اس جمعرات کو ہمارے ساتھ دعاؤں میں شامل نہ ہو سکے ہوں میں نے اگر ایک دن مقرر کیا تھا تو اس کا مطلب یہ تھا کہ میں اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہوں کہ اجتماعی عبادت اور دعا انفرادی عبادت اور دعا سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے ور نہ میں کہہ سکتا تھا کہ سات روزے رکھ لئے جائیں۔کوئی کسی دن رکھ لیتا اور کوئی کسی دن ، کوئی مسلسل رکھ لیتا اور کوئی وقفہ سے اور اس طرح سات کا عدد پورا ہو جا تا مگر اس طرح اجتماعی عبادت اور دعا کا مقصد پورا نہ ہوتا یہی وجہ ہے کہ میں نے ایک دن کا انتخاب کیا اور تمام جماعت سے خواہش کی کہ ایک خاص دن کو سب روزے رکھیں تا اس دن جماعت خصوصیت سے عبادت کرے اور اللہ تعالیٰ کے فضل