خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 209 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 209

خطبات محمود ۲۰۹ سال ۱۹۳۵ء دین حق بیمار و بے کس ہمچو زین العابدیں یعنی گھر کی طاقتیں یزید کی فوج کی طرح احاطہ کئے ہوئے ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا دین زین العابدین کی طرح اکیلا ہے جسے کوئی پوچھنے والا نہیں پس اسے محمد ﷺ دین اسلام پر ایک ایسا وقت آنے والا ہے جب کہ تو اکیلا رہ جائے گا اور لوگ یا تو دنیا کے کاموں میں مشغول ہو جائیں گے یا نکھے ہو کر عیا شیوں میں مبتلاء ہو جائیں گے دین کی طرف ان کی کوئی توجہ نہیں رہے گی۔موجودہ زمانے میں ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں پر یہ علامت بالکل چسپاں ہو رہی ہے۔ان میں امراء ہیں ، روپیہ ہے ، دولت ہے ، وقت ہے لیکن وہ اپنی ساری طاقتیں دنیا کمانے پر صرف کر رہے ہیں اور ایک حصہ ایسا بھی ہے جو بے عمل ہے اور غفلت اور سستی سے اپنی طاقتوں کو تباہ کر رہا ہے۔یہی اس آیت میں بتایا گیا تھا کہ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوَا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا کہ جب وہ تجارت اور لھو دیکھیں گے اس کی طرف جھک جائیں گے اور تجھے اکیلا چھوڑ دیں گے لھو کا لفظ بھی اس جگہ تجارت کے ساتھ بڑھانا بتاتا ہے کہ اس کا اس حدیث سے کوئی تعلق نہیں جو بیان کی جاتی ہے کیونکہ حدیثوں میں یہ کہیں ذکر نہیں آتا کہ وہاں کوئی تماشا بھی آیا ہوا تھا جسے دیکھنے کے لئے صحابہ چلے گئے۔اگر حدیث کے بیان کردہ واقعہ میں اسی آیت کا ذکر ہوتا تو چاہئے تھا کہ وہاں یہ بھی ذکر ہوتا کہ وہاں تجارت کے ساتھ لھو کا بھی کوئی سامان تھا لیکن حدیثوں میں اس کا کوئی ذکر نہیں بلکہ اس کو حل کرنے کے لئے یہ بیان کیا گیا ہے کہ لوگ دحیہ کلبی کو دیکھنے چلے گئے تھے یا یہ کہ قافلہ کے ساتھ کی دفوں کو سننے ، حالانکہ دفیں تو مدینہ کے گھر گھر میں ہوتی تھیں وہ کون سا تما شا تھا ؟ وہ تو اس زمانے کے جنگی طبل کا قائمقام تھا۔پس صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت پر زبر دستی واقعہ کو چسپاں کرنے کے لئے بات بنائی گئی ہے پس صاف طور پر پتہ چلتا ہے کہ یہ مسلمانوں کی آئندہ زندگی کے متعلق پیشگوئی تھی یعنی یہ بتایا گیا تھا کہ مسلمان سکتے ہو جائیں گے ان کا ایک حصہ کام نہیں کرے گا اور جو حصہ کام کرنے والا ہو گا وہ دین کو چھوڑ کر دنیا کے کاموں میں مشغول ہو جائے گا ایسی حالت میں تو اکیلا رہ جائے گا اور کوئی اسلام کا غمگسار نہ ہوگا۔قُل مَا عِندَ اللهِ خَيْرٌ مِنَ اللَّهْوِ وَ مِنَ التِّجَارَةِ یہ خطاب محمد اے کے بروز مسیح موعود سے ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے بروز محمد! یہ تو لوگوں سے کہ مَا عِندَ اللهِ خَيْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَ مِنَ التِّجَارَةِ دین کو دنیا پر مقدم کرو۔یہ بالکل اس آیت کا