خطبات محمود (جلد 16) — Page 201
خطبات محمود ۲۰۱ سال ۱۹۳۵ء لوگ منتشر ہو جائیں مگر ساتویں ہزار سال میں جب مسیح موعود کی بعثت ہو گی تو اس کے بعد اجازت نہیں بلکہ حکم ہوگا کہ فَانتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ جاؤ اور دنیا میں تبلیغ کے لئے پھیل جاؤ۔دیکھو میں نے سورہ بقرہ کی ایک آیت پیش کر کے بتایا تھا کہ وہاں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا لَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَ هُمُ الُوْق حَذَرَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهُمُ اللهُ مُوْتُوْا ثُمَّ أَحْيَاهُمْ - إِنَّ اللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ وَ قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَ اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عليم ا وہاں موت کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا تھا کہ ہم نے یہود کو کہا مر جاؤ چنانچہ وہ مر گئے اور ہم نے انہیں زندہ کر دیا اسی طرح فرمایا اگر تم بھی زندہ رہنا چاہتے ہو تو اپنی جانوں کو جہاد میں لگا ؤ اور خدا تعالیٰ کی راہ میں مرجاؤ یہ قَاتِلُوا کا حکم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے لوگوں کے لئے تھا اوراِنَّ الْمَوْتَ الَّذِى تَفِرُّونَ مِنْهُ میں مسیح موعود کے زمانہ کی موت کی طرف اشارہ ہے اور یہاں چونکہ تلوار سے جہاد کرنے کا موقع نہیں تھا اس لئے یہ نہیں کہا گیا کہ جاؤ اور تلوار سے جہاد کرو بلکہ فرمایا فَانتَشِرُوا فِي الارْضِ اپنے وطنوں کی قربانی کرو اور انہیں چھوڑ کر ممالک غیر میں نکل جاؤ ، مالوں کی قربانی کرو، چندے دو اور اشاعت اسلام کرو۔آج تلوار کے جہاد کے ذریعہ ہم سے قربانی کا مطالبہ نہیں کیا جاتا بلکہ آج قربانی چاہئے اپنے وقت کی ، قربانی چاہئے اپنے مال کی ، قربانی چاہئے اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں سے جدائی کی ، اور قربانی چاہئے نفس کے اندرونی جذبات و شہوات کی۔یہ قربانیاں وہ ہیں جو محمد ﷺ کے صحابہ سے بھی طلب کی گئیں۔لیکن ان میں سے بعض پر اُس وقت زور تھا اور بعض پر آج زور ہے مثلاً رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں تبلیغ کے لئے اس طرح قربانی کا مطالبہ نہیں کیا گیا جس طرح اس زمانہ میں کیا گیا۔اُس زمانہ میں چونکہ اسلام کو تلوار کے زور سے مٹایا جاتا تھا اس لئے حکم تھا کہ جاؤ اور اپنی جانوں کو اسلام کے لئے قربان کر دو اسی لئے پہلے زمانہ کے مسلمان جہاں مخاطب کئے گئے تھے وہاں قَاتِلُوا کا حکم دیا گیا تھا مگر یہاں چونکہ آخری زمانہ کے مسلمان مخاطب تھے اس لئے انہیں یہ کہا گیا ہے کہ فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَوةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ فرمایا وہ مسلمان جو یہود کے ہم رنگ ہیں وہ تو اس موت کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے مگر جب تم کہو گے کہ ہم اس موت کے لئے تیار ہیں تو ہم تمہارے سامنے ایک مطالبہ پیش کریں گے اور وہ یہ کہ فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلَوةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ جب تم خدا کے مسیح کی باتیں سن لو، اس کے مسائل کو سیکھ