خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 3

خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء ہے۔پس یہ اخلاص موہت ہے وگرنہ قرآن کریم ، انبیاء، احادیث بلکہ خدا تعالیٰ پہلے بھی موجود تھا مگر خدا سے ملنے کا ذریعہ معدوم تھا اس لئے نہ قرآن کا لوگوں پر کوئی اثر ہوتا تھا نہ محمد کی باتوں کا اور نہ خدا تعالیٰ کے کلام کا کیونکہ خدا ان سے علیحدہ تھا۔آگ ہمیشہ اسی چیز کو گرم ہے جس کا اس کے ساتھ تعلق ہو۔زمهریر میں بیٹھے ہوئے انسان کو ساری دنیا کے تنور مل کر بھی گرم نہیں کر سکتے۔لیکن اللہ تعالی نے اپنے فضل سے ایسا ذریعہ پیدا کیا جس نے اس کے ساتھ ہمارا تعلق قائم کر دیا اور ہمارے اندر ایسا اخلاص پیدا ہو گیا کہ جہاں ہم میں بیسیوں کمزور ہیں وہاں سینکڑوں مخلص بھی ہیں۔اور جس چیز نے ان کے اندر اخلاص ودیعت کیا ہے کوئی وجہ نہیں کہ وہ دوسروں کی اصلاح نہ کر سکے اور جو لوگ جماعت میں کسی قسم کی ترقی کی بجائے اس کیلئے روک ثابت ہو رہے ہیں ان کے اندر تبدیلی پیدا نہ کر سکے۔پس جہاں میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں وہاں یہ بھی دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالی ان کی بھی اصلاح کردے کیونکہ چند ایک کی کوتاہی بھی بدنامی کا موجب ہو سکتی ہے۔میں نے پہلے بھی کئی بار کہا ہے اور اب پھر کہتا ہوں کہ کام کے متعلق اگر کسی کو شکایت ہو اور اس کے ازالہ کی کوئی تجویز کسی کے ذہن میں آئے تو وہ ابھی سے بتا دیں۔آج اگر کوئی نقص نظر آتا ہے تو سال کے بعد وہ بھول جائے گا لیکن اگر ابھی نوٹ کرا دیا جائے تو کار کن انتظامات کرتے وقت اسے مد نظر رکھ سکیں گے اور یاد کرانے پر انہیں بھی یاد آ جائے نقص میرے نوٹس میں آیا ہے۔ان مہمانوں کے متعلق جو ہمارے گھر میں ٹھہرتے ہیں مجھے شکایت پہنچی ہے اور دو تین بار متواتر کہ جب بھی کوئی لڑکا منتظمین کے پاس کوئی پیغام وغیرہ لے کر گیا تو وہ یہی جواب دیتے تھے کہ اپنا کوئی آدمی بھیجو جو آکر یہ کام کرلے۔مجھے تو ان دنوں اس قدر مصروفیت ہوتی ہے کہ انسان کی شکل تک پہچانی مشکل ہوتی ہے۔عورتیں برقعہ پہن کر کام کیلئے باہر جا نہیں سکتیں اور کوئی ایسا مرد ہمارے ہاں نہیں جو جا کر کام کر سکے۔ہمارے گھر میں قریباً پچاس مہمان ایسے ٹھہرے ہوئے تھے جن کے کھانے اور ناشتے کا انتظام ہم گھر میں ہی کرتے تھے۔اور چونکہ یہ معیوب بات ہے کہ کچھ مہمان ناشتہ کریں اور باقی رہیں اس لئے باقیوں کے متعلق بھی جو دوسو کے قریب تھے، میں نے یہی کہہ رکھا تھا کہ ان کو بھی ناشتہ کرایا جائے۔پس پچاس کے قریب مہمانوں کو کھانا کھلانے اور اڑھائی سو کو ناشتہ کرانے اور بعض عورتوں کے بچوں کیلئے چاول وغیرہ تیار کرنے ہوتے تھے۔اور بھی اس طرح