خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 4

خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء کے کئی کام ہوتے ہیں۔ذاتی مہمانوں کی خاطر تواضع ان سے علیحدہ ہوتی ہے۔ان کاموں کے ہوتے ہوئے کسی ایسے آدمی کو تلاش کرنا جو آکر کام کر دے ناممکن ہوتا ہے۔جس گھر کے مرد دوسرے کاموں میں مصروف ہوں اور عورتیں مہمان نوازی کر رہی ہوں ان سے یہ امید رکھنا کہ وہ خود ہی کسی آدمی کا انتظام کر کے کام کرالیں ناممکن ہے۔دوسرا نقص جو میرے نوٹس میں آیا یہ ہے کہ اختتام جلسہ پر کارکن خود ہی کام چھوڑ دیتے ہیں۔جو بھی لڑکا یا کوئی اور یہ اطلاع دینے کیلئے گیا کہ اتنے مہمان ہیں ان کا کھانا چاہیئے اس کو یہی جواب دیا گیا کہ جا کر مرزا مهتاب بیگ کو تلاش کرو کو تلاش کرو وہ آکر لے جائیں گے۔ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ مرزا مہتاب بیگ کو منتظم ہماری عورتوں نے مقرر نہیں کیا تھا وہ افسروں کی طرف سے مقرر تھے اور افسروں کا ہی کام تھا کہ انہیں تلاش کرتے۔میں نے بتایا ہے کہ ہمارے ہاں پچاس کے قریب مہمان ایسے تھے جن کا کھانا اور ناشتہ وہیں تیار ہوتا تھا۔پھر دو سو کے قریب ایسے تھے جن کا ناشتہ وہاں تیار ہوتا تھا اور کھانا لنگر سے آتا تھا۔ایسا ہی بعض اور گھر ہیں جن میں سوسواسو کے قریب مہمان ٹھرتے ہیں۔جیسے حضرت خلیفہ اول کا گھر، مرزا گل محمد کا گھریا اور ان بعض گھر جو وسیع ہیں اور جہاں مہمانوں کے لئے زیادہ گنجائش ہوتی ہے ایسے گھروں میں منتظم اگر خود ہی کام چھوڑ دیں تو گھر والوں کا یہ فرض نہیں کہ وہ ان کو تلاش کرتے پھریں۔افسر ہی انہیں مقرر کرتے ہیں اور انہی کا فرض ہے کہ دیکھیں وہ آخر تک کام کرتے ہیں یا نہیں۔اگر غیر حاضر ہوں تو ان سے جواب طلب کریں اور تلاش کر کے کام پر لگائیں۔یہ نقص ہے جو اس دفعہ میرے نوٹس میں آیا ہے۔پہلے بھی یہ ہوتا تھا اور میں افسروں کو متوجہ بھی کرتا رہا ہوں لیکن اب کے یہ اس قدر نمایاں طور پر ظاہر ہوا ہے کہ میں نے پرائیویٹ طور پر توجہ دلانا بالکل ناکافی سمجھا۔جو لوگ کام کرنے کیلئے اپنے نام پیش کرتے ہیں وہ گویا ایک قسم کا معاہدہ کرتے ہیں اور اقرار کرتے ہیں کہ خود ہی کام نہیں چھوڑیں گے۔اگر وہ ایسا کریں تو ان کی مثال اس نوکر کی سی ہوگی جس کے آقا نے کہا تھا کہ باہر جا کر دیکھو بارش ہو رہی ہے یا نہیں۔تو اس نے جواب دیا کہ ہو رہی ہے، ابھی بلی آئی تھی اور میں نے دیکھا کہ وہ بھیگی ہوئی تھی۔حالانکہ ممکن ہے بلی نالی میں سے گزر کر آئی ہو۔تو آپ ہی قیاس کرلیتا کہ مہمان چلے گئے ہونگے، خلاف اصول بات ہے۔افسروں کو چاہیے کہ پہلے ہر گھر سے دریافت کروالیں کہ مہمان ہیں یا چلے گئے اور اگر چلے گئے ہوں تب کارکنوں کو چھٹی دیں۔اسی طرح اور بھی نقائص ہوں