خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 80 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 80

خطبات ت محمود سال ۱۹۳۴ ء تم سمجھتے ہو فرانس، جرمن اور امریکہ کے قلعے تو تم فتح کر لو گے مگر احراریوں کی یہ جھونپڑی تم سے فتح نہیں ہو سکے گی۔جن توپوں اور گولوں سے تم نے دنیا کے اور قلعے فتح کرنے ہیں کیوں انہی توپوں اور گولوں سے اس قلعہ کو فتح نہیں کرتے۔پس جاؤ اور ان لوگوں میں تبلیغ کرو۔خدا تعالیٰ کے تازہ نشان جو دنیا میں ظاہر ہو رہے ہیں وہ انہیں سمجھاؤ۔یہ کتنے ہی سنگدل کیوں نہ ہوں آخر ہر انسان میں نیکی کا مادہ ہوتا ہے اور یہ بھی اس سے خالی نہیں ہو سکتے۔اگر تم تبلیغ کرو گے اور انہیں احمدیت میں داخل کر لو گے تو یہ خود اپنے ان قلعوں کو جو آج ہمارے خلاف تیار کر رہے ہیں اپنے ہاتھ سے گرادیں گے یا ہمارے سپرد کردیں گے۔مگر یاد رکھو جن دشمنوں سے تمہارا مقابلہ ہے وہ جھوٹ اور شرارت سے پرہیز نہیں کرتے۔پس مت خیال کرو کہ جو بات ان کی طرف سے تمہارے کانوں میں پڑتی ہے، اس میں ضرور کچھ سچائی ہوتی ہے۔ابھی پچھلے جمعہ کے خطبہ میں ہی میں نے اپنی جماعت کو توجہ دلائی تھی کہ ہماری جماعت کی شدید مخالفت ہو رہی ہے۔دوسرے ہی دن شیخ یوسف علی صاحب اخبار زمیندار کا ایک پرچہ میرے پاس لائے۔اس میں لکھا تھا۔موسیو مرزا ایک ہوٹل سے ایک میم کو لے کر فرار ہو گئے۔حالانکہ اصل واقعہ یہ تھا کہ جیسا کہ دوستوں کو معلوم ہے میں اپنی بیویوں اور لڑکیوں کی تعلیم کا انتظام کر رہا ہوں اور چونکہ قادیان میں مستورات کی انگریزی تعلیم کا انتظام مرد استادوں کے ذریعہ سے کرنا پڑتا ہے اس وجہ سے طالبات انگریزی لفظ رٹ تو لیتی ہیں مگر انہیں بولنا نہیں آتا۔اسی طرح ہر ملک کا لہجہ الگ ہوتا ہے جو اس لہجہ سے ناواقف ہو باوجود زبان جاننے کے بات نہیں سمجھ سکتا۔پس چونکہ میری غرض بیویوں اور لڑکیوں کو انگریزی زبان سکھانے سے یہ ہے کہ وہ انگریز یا ایسی ہندوستانی عورتوں سے جو اردو نہیں جانتیں جیسے بنگالی، مدراسی بیگمات تبادلہ خیال کر سکیں اور مستورات کی انجمنوں وغیرہ میں ضرورت حصہ لے سکیں اس لئے قریباً دو سال سے میں نے یہ انتظام کیا ہوا ہے کہ علاوہ مرد استادوں کے ایک عورت استانی بھی رکھتا ہوں جو شاگردوں کو انگریزی بولنا سکھائے۔اور اس کے لہجہ کو سن سن کر انگریزی لہجہ کی منافرت ان سے دور ہو جائے۔بڑے شہروں میں زنانہ سکولوں میں انگریز عورتیں ماسٹر ہوتی ہیں اور الگ انتظام کی ضرورت نہیں ہوتی۔لیکن قادیان میں انگریزی بولنے کی مشق کیلئے ایسا انتظام ضروری ہے۔خصوصاً ہمارے گھر کی مستورات کیلئے کہ میں انہیں اس غرض سے نہیں پڑھواتا کہ وہ نوکری کریں بلکہ اس لئے کہ سب