خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 52

خطبات محمود ۵۲ سال ۱۹۳۴ء نہیں ہوتا۔ابھی پچھلے دنوں ایک دوست نے مجھے لکھا کہ میرے پاس پانچ چھ ہزار روپیہ ہے اسے میں ایسی جگہ لگانا چاہتا ہوں جہاں سے پچاس ساٹھ روپیہ ماہوار آمد ہو جائے حالانکہ جائداد پر اس سے آدھا منافع بھی نہیں مل سکتا مگر انہوں نے لکھا مجھے ایسے لوگ ملتے تو ہیں مگر میں چاہتا ہوں آپ کی معرفت کام کروں۔مگر بات یہ ہے کہ انہیں ایسے لوگ مل رہے تھے جو پچاس ساٹھ کہنے کو تو کہتے تھے مگر ادا ایک بھی نہ کرتے اور نہ صرف انہیں منافع حاصل نہ ہوتا بلکہ اصل روپیہ بھی کھو بیٹھتے کیونکہ ایسے لوگ جانتے ہیں کہ آخر مقدمہ قضاء میں آتا ہے اور قضاء والے جھٹ کہہ دیں گے کہ یہ سود ہے۔اور اگر مکان پر قبضہ دلایا جائے تب بھی پانچ چھ ہزار میں۔اگر آٹھ سو روپیہ کا مکان کسی شخص کو دینا پڑے تو اسے تو فائدہ ہی رہا۔پس ایسے لوگوں کو بھی سمجھائیں کہ بلا سوچے سمجھے دوسروں کو قرض نہ دیا کریں۔پھر تیسری بات یہ ہے کہ جب کسی شخص کے متعلق کوئی ایسا معاملہ دیکھیں اور محسوس کریں کہ وہ دھوکا بازی کر رہا ہے تو جماعت میں اس کی دھوکا بازی اور فریب کاری کو ظاہر کریں۔پس یہ تین کام ہیں۔اول یہ کہ بجائے اپنے کسی بھائی کو بدنام کرنے کے پہلے عام رنگ میں نصیحت کی جائے کہ وہ لوگ جنہیں کہیں سے روپیہ آنے کی امید نہ ہو وہ قرض نہ لیا کریں۔دوسرے روپیہ دینے والوں کو نصیحت کریں کہ ایسے لوگوں کو قرض دینے سے اجتناب کیا کریں۔اور تیسری بات یہ ہے کہ دھوکا باز کا فریب جماعت میں ظاہر کریں تا لوگ اس سے بچ کر رہیں۔پھر ہمیشہ مظلوم کی تائید کرنی چاہیئے۔مگر غلطی سے لوگ مظلوم غریب کو قرار دیتے اور سمجھ لیتے کہ امیر ہی ظالم ہے حالانکہ اگر ایک کروڑ پتی کا ایک روپیہ بھی کسی غریب نے دینا ہے اور وہ دینے کی طاقت رکھتا ہوا نہیں دیتا تو کروڑپتی مظلوم ہے اور غریب ظالم۔اگر یہ تین کام ہماری جماعت کے لوگ کرنا شروع کردیں تو میں امید کرتا ہوں کہ چھ مہینہ سال تک اس حد تک اصلاح ہو جائے گی کہ میں دلیری سے لوگوں سے یہ کہہ سکوں گا کہ غریبوں اور حاجت مندوں کو قرض دیا کرو۔پس وہ لوگ جنہوں نے میرے پاس اپنے نام بھجوائے ہیں۔ان کے سپرد فی الحال میں یہ کام کرتا ہوں۔اور امید کرتا ہوں کہ وہ مہینہ دو مہینہ کے بعد مجھے اپنی رپورٹ بھیجا کریں گے ہم نے اس اس طرح اصلاح کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ میرے دل میں بھی ان کے لئے دعا کی تحریک ہو اور یہ بھی مجھے معلوم ہوتا رہے کہ وہ سچ مچ کام کر رہے ہیں صرف نام ہیں۔