خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 499 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 499

سال ۶۱۹۳۴ خطبات محمود چاہے ۴۹۹ ہیں اور بعینہ یہی حالت آج کل ہو رہی ہے۔دشمنوں نے یہ محسوس کرلیا ہے کہ یہ سلسلہ بڑھتا جارہا ہے اور اگر اسے مزید بڑھنے دیا گیا تو کچھ عرصہ بعد ہم اس کی ترقی کو روک نہیں گے اس لئے وہ ہر طرف سے ہم پر حملہ آور ہو رہے ہیں اور ہمیں آج وہی نظارہ پیش ہے جو حضرت امام حسین بنی اللہ کو کربلا میں پیش آیا تھا۔ہمارا حسین اس وقت کربلا کے میدان میں ہے اور یزید کا لشکر سامنے پڑا ہے۔اس کے ہاتھوں میں کمانیں کھینچی ہوئی ہیں اور تیر حسین کے سینہ کی طرف چھوٹنے والے ہیں۔پس جو چاہے کوفہ والوں کی طرح ایک طرف ہو جائے جو آگے آئے اور قربانی کیلئے اپنے آپ کو پیش کرے اور کہے کہ جو تیر سلسلہ کیلئے چھوڑا جائے گا میں اسے خود اپنے سینہ پر کھاؤں گا اور جو ایسا کریں گے وہی برکت والے ہوں گے اور جن کے دلوں میں اخلاص نہیں یا اخلاص کی کمی ہے اللہ تعالیٰ انہیں ظاہر کر دے گا۔ہمارا کام صرف یہ ہے کہ اس مقصد کیلئے اپنی جانیں قربان کریں یہ نہیں کہ دوسروں کو مجبور کریں کہ آگے بڑھو۔یاد رکھو کہ جو اس جنگ میں مرتا ہے وہ دراصل زندہ ہوتا ہے۔پس دوسروں کا فکر نہ کرو بلکہ اپنا فرض ادا کرو۔جو قربانی کر سکتا ہے مگر نہیں کرتا وہ کوفہ والوں کی طرح ہے جو اگرچہ جانتے تھے کہ حضرت امام حسین حق پر ہیں مگر ان کی امداد کیلئے میدان میں نہ آئے۔جو دشمن ہیں اور نقصان کے درپے خواہ منافقوں سے ہوں خواہ کافروں میں سے وہ یزیدی ہیں اور یزید کا لشکر ہیں۔پس جو اس وقت میدان میں آتے ہیں وہ حضرت امام حسین بھی اللہ کے ساتھیوں کی طرح ہیں یہ مت خیال کرو کہ تم تھوڑے ہو اس لئے ہار جاؤ گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ ہر بات دو دفعہ ظاہر کرتا ہے۔اور پہلی ناکامی کو دوسری دفعہ کی کامیابی سے دھو دیتا ہے۔پہلا آدم جنت سے نکالا گیا اس لئے خدا تعالیٰ نے پھر میرا نام آدم رکھا تاکہ پھر میں اولاد آدم کو جنت میں داخل کروں۔پہلے مسیح کو یہودیوں نے صلیب پر لٹکایا تب خدا نے پھر میرا نام مسیح رکھا تا میرے ذریعہ صلیب کو توڑ دے۔اسی طرح یاد رکھو کہ پہلا حسین کربلا میں بے گناہ حق کی حمایت کی وجہ سے شہید کیا گیا اور اب دوسرے حسین کے ذریعہ خدا تعالٰی یزید کے لشکر کو شکست دے گا۔اس لئے میں تحریک کرنے والوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ صرف اخلاص کو لیں اور روپیہ یا تعداد کی کمی کا خیال نہ کریں۔جو لوگ اخلاص کے ساتھ قربانیاں کرتے ہیں صرف وہی اس میں شامل کئے جائیں اور جو لوگ اپنے اندر اخلاص نہیں رکھتے وہ ہمارے ساتھ نہیں چل سکیں گے بلکہ۔