خطبات محمود (جلد 15) — Page 496
خطبات محمود ۴۹۶ سال ۱۹۳۴ء بَدَءَ الْإِسْلَامُ غَرِيبًا وَ سَيَعُودُ غَرِيبات - اسلام غریب ہی شروع ہوا اور آخر زمانہ میں پھر غریب ہو جائے گا۔کون ہے جو بچہ سے پیار کرتا ہے مگر اس کا باپ یا اس کی ماں؟ کون ہے جو بھائی سے پیار کرتا ہے مگر اس کا بھائی؟ کون ہے جو غریب الوطن سے ہمدردی کرتا ہے مگر اس کا ہم وطن ان غریبوں نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنی غربت میں بھی غریب اسلام کو نہیں بھولے کیونکہ وہ بھی غریب ہیں اور اسلام بھی غریب اور اس طرح وہ اس کے رشتہ دار ہیں اور اس کی غربت کی حالت کو دیکھنا پسند نہیں کرتے اور اپنے خون سے اس کی کھیتی کو سینچ کر وہ اس کی حالت کو بدلنا چاہتے ہیں- رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ - بعض لوگ مالی لحاظ سے غریب ہوتے ہیں اور بعض دل کے غریب ہوتے ہیں اور دل کے غریب وہ ہوتے ہیں جو کبر محسوس نہ کریں۔میں نے بیسیوں تحریکیں اپنی خلافت کے زمانہ میں کی ہیں مگر کئی امراء اور علماء ہماری جماعت کے ایسے ہیں کہ انہوں نے ان میں بہت ہی کم حصہ لیا ہے۔اس لئے جو امراء دینی تحریکات میں حصہ لیتے ہیں، ان کو بھی میں غرباء میں ہی شامل کرتا ہوں کیونکہ وہ دل کے غریب ہیں۔تحدیث نعمت کے طور پر میں چودھری نصر اللہ خان صاحب مرحوم کی اکثر اولاد بالخصوص چودھری ظفر اللہ خان صاحب کا ذکر کرتا ہوں۔میں نے آج تک کوئی تحریک ایسی نہیں کی جس میں انہوں نے حصہ نہ لیا ہو۔خواہ وہ تحریک علمی تھی یا جسمانی یا بالی یا سلوک کی خدمت کی انہوں نے فوراً اپنا نام اس میں پیش کیا اور پھر خلوص کے ساتھ اسے نباہا۔جب میں نے ریز روفنڈ کی تحریک کی تھی تو کئی لوگوں نے اپنے نام دیئے مگر ان میں سے صرف چودھری ظفر اللہ خان صاحب ہی ہیں، جنہوں نے پوری طرح نباہا اور ہزاروں روپیہ جمع کر کے دیا حالانکہ اس وقت ان کی پوزیشن ایسی نہ تھی جیسی اب ہے کہ کوئی خیال کرے کہ اپنے اثر سے روپیہ جمع کرلیا ہو گا۔چودھری نصر اللہ خان صاحب مرحوم گو ۱۹۰۰ء کے بعد داخل سلسلہ ہوئے مگر انہوں نے اخلاص کا بہت نیک نمونہ دکھایا اور وہی نمونہ کم و بیش ان کی اولاد میں بھی ہے اور ان کی اہلیہ میں بھی اخلاص کا وہ نیک نمونہ ہے بلکہ وہ صاحب کشوف بھی ہیں، ان کو ہمیشہ بچے خواب آتے رہتے ہیں۔مجھے ان کی اولاد سے اس لئے بھی محبت ہے کہ جب میں نے آواز دی کہ جو لوگ اپنے گزارہ کیلئے کافی روپیہ کما چکے ہوں، وہ اپنا بڑھاپا دین کیلئے وقف کر دیں تو چودھری نصر اللہ خان صاحب مرحوم نے اس پر لبیک کہا اور نہایت اخلاص سے صدر