خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 495 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 495

خطبات محمود ۴۹۵ سال ۱۹۳۴ مال کا محتاج نہیں۔یہ مت خیال کرو کہ دین کی فتح اس ساڑھے ستائیس ہزار روپیہ پر ہے اور بعض لوگ اگر اس میں حصہ نہ لیں گے تو یہ رقم کیسے پوری ہوگی۔جب اللہ تعالی اس کام کو کرنا چاہتا ہے تو وہ ضرور کردے گا۔اگر اللہ تعالیٰ کا یہی منشاء ہے روپیہ پورا نہ ہو تو وہ اس کے بغیر بھی کام کر دے گا۔پس رقم کو پورا کرنے کے خیال سے زیادہ زور مت دو۔کارکنوں کا کام صرف یہی ہے کہ تحریک دوسروں تک پہنچادیں اور دس پندرہ دن کے بعد پھر یاد دہانی کردیں۔اسی طرح جماعتوں کے سیکرٹری بھی احباب تک اس تحریک کو پہنچادیں۔یہ کسی کو نہ اجائے کہ اس میں حصہ ضرور لو۔جو کہتے ہیں ہمیں توفیق نہیں، انہیں مت کہو کہ حصہ کیونکہ خدا تعالیٰ نہیں چاہتا کہ جو باوجود توفیق کے حصہ نہیں لیتے ان کا حصہ اس پاک تحریک میں شامل ہو۔اگر ایسا شخص دوسروں کے زور دینے پر حصہ لے گا تو وہ ہمارے پاک مال کو گندہ کرنے والا ہوگا۔پس ہمارے پاک مالوں میں ان کے گندے مال شامل کر کے ان کی برکت کم نہ کرو۔میں نے پچھلے ایک خطبہ میں کہا تھا کہ غرباء زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور ان کیلئے میں نے جو سہولتیں رکھی ہیں، ان کو استعمال کر رہے ہیں اور غالباً یہ بھی کہا تھا کہ مالی طور پر ان روپیہ سے شاید زیادتی نہ ہو مگر اخلاص کے لحاظ سے ضرور ہوگی۔مگر اب معلوم ہوا ہے کہ غرباء شاید مال کو بھی بڑھا دیں گے کیونکہ یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ جب انہوں نے لبیک کہا تھا تو کے ان کے دل کے ذرہ ذرہ سے لبیک کی صدا اٹھ رہی تھی۔اس کے بالمقابل بعض لوگ بھی ہیں کہ جو زیادہ حصہ لے سکتے تھے مگر انہوں نے نہیں لیا اور بعض کو بظاہر جتنی توفیق تھی اس سے زیادہ حصہ لے رہے ہیں۔جو لوگ میرے مخاطب تھے یعنی آسودہ حال ان میں سے اس وقت تک صرف پانچ چھ نے ہی حصہ لیا ہے۔میں نے آسودگی کا جو معیار اپنے دل میں رکھا تھا وہ یہ تھا کہ جو لوگ ڈیڑھ سو یا اس سے زیادہ آمد رکھتے ہیں، وہ آسودہ حال ہیں۔ہماری جماعت میں ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے جو فی الواقع امیر ہوں۔متوسط طبقہ زیادہ ہے اور انہی کو ہم امیر کہہ لیتے ہیں مگر ہمارے متوسط طبقہ نے جو قربانیاں کی ہیں وہ اپنی شان میں بہت اہم ہیں۔بعض نے تو ان میں سے چار چار ماہ کی آمدنیاں دے دی ہیں اور زیادہ تر حصہ بھی انہی لوگوں نے لیا ہے جو غرباء یا متوسط طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور انہوں نے ثابت کردیا ہے کہ گو ان کے وسائل کمزور ہیں مگر دل وسیع ہیں۔رسول کریم ﷺ کی پیشگوئی تھی۔