خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 491 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 491

خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء ہے۔عمل کا مندرجہ ذیل امور ہیں۔اول ایک سالن کھانا۔اس میں سب شامل ہو سکتے ہیں۔امیر زیادہ کو کم کرکے ایک کھا سکتا ہے اور غریب تو کھاتا ہی ایک ہے۔بعض غریب خیال کرتے ہیں کہ ہمیں اس میں شامل ہونے کی ضرورت نہیں مگر ایسا خیال کرنے والوں نے دراصل اس سکیم کے مغز کو نہیں سمجھا حالانکہ ان کا حق زیادہ ہے کہ ثواب میں شریک ہوں ثواب ہمیشہ نیت کا ہوتا ہے نہیں۔دنیا میں کون ہے جو اپنی بیوی سے پیار نہیں کرتا اور وہ کون مومن ہے جو اپنی بیوی سے حسن سلوک نہیں کرتا مگر رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کے منہ میں اس لئے لقمہ ڈالتا ہے کہ اسے ثواب حاصل ہو اس کیلئے ایک نیکی لکھی جاتی ہے ھے پس جو کام یوں بھی کئے جاتے ہیں وہ نیت کرلینے سے نیکی بن جاتے ہیں۔جو لوگ ایک ہی سالن کھاتے ہیں وہ پہلے مجبوری سے کھاتے تھے مگر اب اگر نیت کرلیں تو یہی مجبوری ان کیلئے نیکی بن جائے گی اس لئے کوئی ایسا شخص نہیں جو اس میں شامل نہ ہو سکتا ہو بلکہ غرباء زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔کئی امیر ایسے ہو سکتے ہیں جو اپنے دل میں یہ کہتے ہوں گے کہ ہم تو تین چار سے کم سالن پر گزارہ نہیں کر سکتے اور پھر وہ زبان سے اعتراض کریں گے کہ گاندھی جیسی تحریکیں شروع کردی ہیں لیکن وہ غریب جسے یہ پتہ لگے کہ اس مجبوری کی حالت سے وہ ثواب حاصل کر سکتا ہے اور پھر بھی نہ کرے تو اس سے زیادہ بیوقوف کون ہو سکتا ہے۔اور ایسے غریب کی مثال تو اس شخص کی ہوگی جو گرمیوں کے موسم میں دھوپ میں بیٹھا تھا کسی نے کہا میاں اٹھ کر سائے میں ہو جاؤ تو وہ کہنے لگا کیا دو گے۔تو جو لوگ کھاتے ہی ایک سالن ہیں، ان کا حرج کیا ہے کہ اسے عبادت بنالیں۔جو غرباء خیال کرتے ہیں کہ یہ ہدایت امیروں کیلئے ہی ہے انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ بیشک امیر کیلئے ظاہری قربانی ہے مگر دل کی قربانی تو غریب کیلئے بھی ہے۔غریب سے غریب آدمی جسے فاقے بھی آجاتے ہوں، اس پر بھی کبھی نہ کبھی ایسا موقع ضرور آجاتا ہے کہ وہ دو کھانے کھا سکے، کبھی کوئی دوست تحفہ ہی بھیج دیتا ہے، کبھی کوئی سبزی ترکاری اپنے کھیت میں سے یا اگر اپنی نہ ہوئی تو ہمسایہ سے مانگ کر ہی پکائی جاتی ہے کچھ ساگ پکالیا کچھ دال، کبھی آلو بھی پکالئے اور مشلغم بھی تو اس طرح غریب بھی بعض اوقات دو بھا جیان بنا لیتے ہیں گو ان میں گوشت نہیں ہوتا مگر ہنڈیاں دو کئی دفعہ وہ بھی پکا لیتے ہیں۔اب اگر ایسا شخص جسے کبھی کبھی ایسا موقع ملتا ہے دوسرا سالن یا ترکاری چھوڑ دے تو اس کی یہ دو قسم کا سالن