خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 478 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 478

خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء نہیں۔ایسا شخص اگر باہر آکر ہمارے سامنے ایک کھانا کھائے اور اندر کو ٹھڑی میں جاکر پانچ سات کھانے کھائے تو اسے کون روک سکتا ہے۔پس بیمار کیلئے پابندی نہیں۔ہر شخص جسے ڈاکٹر کہتا ہے کہ اس کی صحت کیلئے ضروری ہے کہ وہ ایک سے زیادہ کھانے کھائے، وہ زیادہ کھانے کھا سکتا ہے مگر یہ اپنا وہم نہ ہو بلکہ طبی خیال ہو اور بیمار کیلئے وہ سب چیزیں جائز ہیں جن کا طبیب حکم دے۔فقہاء نے تو بعض حالتوں میں بیمار کیلئے شراب کی بھی اور بعض نجس اشیاء کے استعمال کی بھی اجازت دی ہے اور جب ایسی چیزوں کی ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق اجازت ہے تو جائز چیزوں کی کیسے ممانعت ہو سکتی ہے۔باقی رہا دہی کا سوال۔بعض لوگ قبض دور کرنے کے لئے دہی کا استعمال کرتے ہیں، انہیں اجازت ہے لیکن کیوں نہ ایسا کرلیا جائے کہ بجائے سالن کے ساتھ علیحدہ دہی کھانے کے اس کو بکو کر پی لیا جائے اس سے چسکا پورا کرنے کا سوال بھی پیدا نہ ہوگا اور عادت بھی پوری ہو جائے گی۔اگر سوء ہضمی کا اندیشہ ہو تو پانی نہ ڈالا جائے اور صرف بلو کر اسے پی لیا جائے۔وہی روٹی کے ساتھ ہی کھانے سے فائدہ نہیں دیتا بلکہ اس طرح پی لینے سے بھی فائدہ ہوتا ہے۔اس کے علاوہ زمینداروں کے متعلق ایک اور سوال ہے کہ ان کے کھیتوں میں مولیاں گاجریں ہوتی ہیں اور وہ ان کو بھی استعمال کر لیتے ہیں لیکن ان کیلئے وہ ایسی ہی ہیں جیسے شہروں کے رہنے والے لوگوں یا زمینداروں میں سے بھی امیر لوگوں کیلئے دودھ ہوتا یا پھل ہوتا ہے۔اگر روٹی کھاتے وقت وہ ساتھ گاجر یا مولی رکھ لیں تو اس سے عیاشی نہیں ہو سکتی نہ ان کی بیویوں کو اس کے پکانے پر وقت صرف کرنا پڑتا ہے نہ ہی اسے کھانے کیلئے انہیں خرچ کرنا پڑتا ہے۔وہ چیزیں بیچنے کیلئے ہوتے ہیں اس میں سے کوئی چیز اگر خود کھالی تو کوئی حرج نہیں۔پس یہ ان کا جائز حق ہے بلکہ ضروری ہے کہ وہ ایسی چیزوں کا استعمال کیا کریں کیونکہ ترکاری کا استعمال صحت کیلئے ضروری ہوتا ہے اور دیہات میں لوگ سبزی ترکاری کم استعمال کرتے ہیں زیادہ تر دالیں وغیرہ ہی کھائی جاتی ہیں۔اور اگر زمیندار لوگ ایسی چیزیں کھالیا کریں تو یہ ان کی صحت کو بھی بڑھانے کا موجب ہوگا اور دوسرا سالن نہیں کہلا سکے گا۔چوتھی بات دعوت کے متعلق ہے۔میں پہلے بھی اس کی اجازت دے چکا ہوں کہ دعوتوں کے موقع پر ایک سے زیادہ کھانے پکانے کی اجازت ہے۔ہاں اپنے گھر کی دعوت میں کوشش یہ کرنی چاہیئے کہ خود ایک ہی کھائیں اور اگر دوسرے کے ہاں دعوت ہو اور وہ