خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 435 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 435

خطبات محمود ۴۳۵ سال ۱۹۳۳۴ء رقم اس کام کیلئے دے سکیں۔اگر اس قسم کے آدمی حسب منشاء نہ ملیں تو جن لوگوں نے پچھلے خطبہ کے ماتحت وقف کیا ہے ان میں سے کچھ آدمی مچن لئے جائیں۔جن کو صرف کرایہ دیا جائے اور چھ ماہ کیلئے معمولی خرچ دیا جائے اس عرصہ میں وہ ان ملکوں کی زبان سیکھ کر وہاں کوئی کام کریں اور ساتھ ساتھ تبلیغ بھی کریں اور سلسلہ کا لٹریچر اس ملک کی زبان میں ترجمہ کر کے اسے اس ملک میں پھیلائیں اور اس ملک کے تاجروں اور احمدی جماعت کے تاجروں کے درمیان تعلق بھی قائم کرائیں۔غرض مذہبی اور تمدنی طور پر اس ملک اور احمدی جماعت کے درمیان واسطہ بنیں۔پس میں اس تحریک کے ماتحت ایک طرف تو ایسے نوجوانوں کا مطالبہ کرتا ہوں جو کچھ خرچ کا بوجھ خود اٹھائیں ورنہ وقف کرنے والوں میں سے ان کو مچن لیا جائے گا جو کرایہ اور چھ ماہ کا خرچ لے کر ان ملکوں میں تبلیغ کیلئے جانے پر آمادہ ہوں گے جوان کیلئے تجویز کئے جائیں گے۔اس چھ ماہ کے عرصہ میں ان کا فرض ہوگا کہ علاوہ تبلیغ کے وہاں کی زبان بھی سیکھ لیں اور اپنے لئے کوئی کام بھی نکالیں جس سے آئندہ گزارہ کر سکیں۔اس تحریک کیلئے خرچ کا اندازہ میں نے دس ہزار روپیہ کا لگایا ہے۔پس دوسرا مطالبہ اس تحریک کے ماتحت میرا یہ ہے کہ جماعت کے زی ثروت لوگ جو سو سو روپیہ یا زیادہ روپیہ دے سکیں اس کیلئے رقوم دے کر ثواب حاصل کریں۔غرباء کی خواہش کو مد نظر رکھ کر میں اس کی بھی اجازت دیتا ہوں کہ جو سو نہیں دے سکتے وہ دس ہیں تمھیں یا زیادہ رقوم جو رہا کوں پر مشتمل ہوں ادا کریں، یا دس دس بیس بیس ماہوار کر کے اس میں شامل ہو جائیں۔تمام غیر ممالک میں احمدیت کا جھنڈا گاڑنا نہایت اہم اور ضروری ہے۔میں نے پہلے بھی اس کی طرف توجہ دلائی ہے۔چنانچہ ایک دفعہ کی تحریک پر ایک نوجوان جن کا نام کرم دین ہے، چپکے سے چلے گئے اور جہاز پر جاکر کوئلہ ڈالنے پر ملازم ہو گئے۔اس طرح انگلستان جاپہنچے، جماعت نے سات آٹھ دن تک کھانا وغیرہ ان کو دیا اس کے بعد انہوں نے پھیری کا کام شروع کردیا اور ساتھ ہی کام بھی سیکھنے لگ گئے۔اور اس وقت وہ انگلش ویر ہاؤس لاہور میں اڑھائی تین سو روپیہ تنخواہ پاتے ہیں۔پس میں اس تجربہ سے بھی سمجھتا ہوں چھ سات ماہ کی مدت کام تلاش کرنے کیلئے کافی ہے اور اگر اس میں بھی کوئی کام پیدا نہیں کر سکتا تو وہ نالائق ہے۔ایسے نوجوان با قاعدہ مبلغ نہیں ہوں گے مگر اس بات کے پابند ہوں گے کہ باقاعدہ رپورٹیں بھیجتے رہیں اور ہماری ہدایات کے ماتحت تبلیغ کریں۔پس الله