خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 345

خطبات محمود ۳۴۵ سال ۱۹۳۴ء میں ایک معزز احمدی سے لڑائی ہوئی تھی اور وہ اس کا غصہ جماعت احمدیہ سے نکال رہے ہیں لیکن اگر یہ شبہ درست ہو تو ایک افسر تک محدود رہتا ہے۔میں نہیں مان سکتا کہ اس قدر صریح جھوٹ میں بہت سے اعلیٰ حکام شامل ہو سکیں۔خود ہز ایکسی لینسی گورنر سے ہمارے دوستانہ تعلقات رہے ہیں، جب وہ گورنمنٹ آف انڈیا میں تھے تو میری چائے کی دعوت پر تشریف لائے تھے، درد صاحب بھی ان سے اکثر ملتے رہے تھے اور خانصاحب فرزند علی صاحب کو بھی وہ ولایت میں نہایت محبت سے ملے تھے بلکہ انہوں نے ولایت میں خانصاحب کو اپنے گھر پر مدعو کیا تھا اور پنچ کھلایا اور چائے پلائی تھی۔یہ تمام حالات ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ ہم ایک اتنے بڑے افسر پر جنہیں ملک معظم نے صوبہ بھر کیلئے اپنا نمائندہ تجویز کیا اعتماد کریں دوسرے افسر بھی ایسے نہیں کہ ہمیں ان پر کوئی شبہ کی وجہ ہو۔ان میں ہندو بھی ہیں اور سکھ بھی اور مسلمان بھی اور سب سے ہمارے ایسے تعلقات رہے ہیں کہ ہم کسی پر بھی شک کرنے کی وجہ نہیں پاتے۔پس ہم سب پر الزام نہیں لگا سکتے اور نہ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ اگر کوئی دشمن حکومت میں موجود نہیں تو اس قدر صریح ظلم کس طرح ہو رہا ہے۔پس ہمارے لئے یہی راستہ کھلا ہے کہ ہم کہیں کہ حکومت میں ہمارا کوئی دشمن ہے مگر ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ کون ہے۔ہاں چونکہ بعض ظلم گورنمنٹ کے نام پر کئے گئے ہیں، ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ گورنمنٹ نے ہم سے انصاف کا معاملہ نہیں کیا۔واقعہ جس کی طرف میں نے اوپر اشارہ کیا ہے عجیب واقعہ ہے۔ہم بالکل بے خبر بیٹھے تھے کہ ایک پنجاب پولیس کے اعلیٰ افسر قادیان آئے اور مجھ سے بھی ملنے آگئے۔انہوں نے دورانِ گفتگو میں مجھ سے ذکر کیا کہ رپورٹ ہوئی ہے کہ احمدیوں نے نیزے تیار کئے ہیں اور ایک نیزہ پولیس نے پکڑ کر بطور نمونہ بھیجوایا بھی ہے۔میں اس خبر کو سن کر حیران رہ گیا کیونکہ مجھے اس کی کوئی اطلاع نہ تھی اور میں نے ناظر صاحب کار خاص سے جو اس وقت پاس تھے، اس کی حقیقت پوچھی۔انہوں نے بتایا کہ ایک ڈیرہ غازی خان کا طالب علم نتجاری کا کام یہاں ہے اس نے ایک لوہار دوست سے مل کر ایک گھڈیٹک یہاں بنوائی تھی جسے یہاں کی پولیس نے نیزہ قرار دے کر رپورٹ کردی کہ احمدی نیزے بنوا رہے ہیں اور پھر اپنے طور پر یا کے حکام کے ایماء سے اس کھڈ سٹک کو زبردستی چھین کر اوپر بھجوا دیا کہ یہ ایک نمونہ ان نیزوں کا ہے۔اس گفتگو کے چند دن بعد میں یہ خبر اخبارات میں پڑھ کر حیران رہ گیا کہ قادیان سیکھتا اوپر