خطبات محمود (جلد 15) — Page 344
خطبات محمود بهم م۳ سال ۱۹۳۴ء جب انہوں نے کہا کہ ہم احراریوں کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتے یہ لوگ محض شرارت کیلئے قادیان آئے ہیں تو مجسٹریٹ نے کہا میں تم کو اس مسجد میں جمعہ پڑھنے نہیں دوں گا کیونکہ اس سے فساد ہوتا ہے حالانکہ روکنا فساد والوں کو چاہیے تھا۔پھر جبکہ یہ لوگ قادیان کے ایک دوسرے سرے پر نماز پڑھ رہے تھے تو فساد کا احتمال کس طرح ہو سکتا تھا۔جب ان غریبوں نے کہا کہ ہم احراریوں کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتے اور اس مسجد میں نماز پڑھنے کی آپ اجازت نہیں دیتے تو ہم کہاں جمعہ ادا کریں تو مجسٹریٹ نے کہا کہ کھیتوں میں جاکر پڑھو۔انہوں نے کہا کہ کھیت تو احمدیوں کے ہیں تو انہیں کہا گیا کہ جہاں چاہو پڑھو مگر اس مسجد میں مت پڑھو۔حالانکہ وہ غریب آدمی ہیں وہ مسجد کے سوا اتنی جگہ کہاں سے لائیں مگر انہیں یہی کہا گیا کہ یا تو احراریوں کے ساتھ جمعہ ادا کرو یا کسی اور جگہ پڑھو بہر حال اس مسجد میں نہ پڑھو۔اس کے بعد اس مسجد پر جمعہ کے دن پولیس کے آدمی متعین ہوتے کہ کسی کو جمعہ نہ پڑھنے دیں۔ان واقعات سے ظاہر ہے کہ گورنمنٹ خود احراریوں کی مدد کر رہی ہے اور وہ دوسرے مسلمانوں کو مجبور کرتی ہے کہ وہ بھی احراریوں کے پیچھے نماز پڑھیں کیونکہ قادیان کے وہ دوسرے مسلمان جو جمعہ کی قیمت سمجھتے ہیں جب جمعہ پڑھنے کیلئے مجبور ہوں گے تو سوائے اس کے ان کیلئے اور کوئی صورت نہ ہوگی کہ وہ احراریوں کی مسجد میں جائیں اور اس طرح ہمارے مخالفوں کا منشاء پورا ہو کہ لوگوں کے دل ہمارے خلاف باتیں سن سن کر ہماری دشمنی کے خیالات سے بھر جائیں۔غرض اس واقعہ سے ثابت ہے کہ گورنمنٹ کے بعض افسر لوگوں کو مجبور کر کے احرار کے ساتھ لگانا چاہتے ہیں تاکہ وہاں سے اشتعال پکڑ کر وہ فساد کریں۔اب یہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ ان افسروں کی تفتیش کرے اور اگر امن کی کوئی قیمت اس کے دل میں ہے تو انہیں سزا دے اور یہ بھی غور کرے کہ ڈپٹی کمشنر صاحب اس موقع پر کیوں خاموش ہیں اور کیوں ان کی نگرانی میں یہ حرکات ہو رہی ہیں۔نواں واقعہ بھی ایسا ہے کہ اس کا خیال کر کے حیرت آتی ہے اور حکومت کی خاموشی کو دیکھ کر یہی خیال کرنا پڑتا ہے کہ شاید اسے صحیح واقعات کی اطلاع نہیں دی گئی ورنہ میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس قدر جھوٹ بولا جائے اور اس کی تردید نہ کی جائے۔یہ تو ممکن نہ کی جائے۔یہ تو ممکن ہے کہ کوئی خاص افسر سلسلہ کا مختلف ہو مگر یہ میں تسلیم نہیں کر سکتا کہ تمام اعلیٰ حکام اس مرض میں مبتلاء ہوں۔بعض لوگ شبہ کرتے ہیں کہ ایک اعلیٰ افسر کی سابق گورنر صاحب کے وقت