خطبات محمود (جلد 15) — Page 330
خطبات محمود ۳۳۰ تو احمق بنتے ہیں، نہ مانیں تو باغی قرار پاتے ہیں۔پس ہم نہیں سمجھ سکتے کہ ہمارے لئے کون سی صورت باقی رہ جاتی ہے سوائے اس کے کہ ہم وہی صورت اختیار کریں جو ایک نوکر نے اپنے آقا کے متعلق اختیار کی تھی۔کہا جاتا ہے کہ کوئی شخص تھا جو ہمیشہ عذر رکھ کر اپنے ملازموں کو نکال دیا کرتا۔ایک دفعہ جب اس نے نیا نوکر رکھا تو اس نے یہ سمجھتے ہوئے کہ کہیں ایسا نہ ہو چند دنوں کے بعد یہ مجھے بھی کوئی عذر رکھ کر نکال دے آقا سے کہا کہ آپ میری تمام ذمہ داریاں مجھے لکھ دیجئے۔اگر ان کی ادائیگی میں میں نے کوتاہی کی تو میں اس کا ذمہ دار ہوں گا جو کام میرے ذمہ نہ ڈالا گیا میں اس کا ذمہ دار نہ ہوں گا۔چونکہ مطالبہ نہایت معقول تھا، اس لئے آقا نے تمام ذمہ داریاں اسے لکھ کر دے دیں۔ایک دن آقا ایک منہ زور وڑے پر سوار ہوا جو اتفاقاً کسی چیز سے ڈر کر بد کا اور آقا صاحب گھوڑے سے نیچے آرہے۔لیکن ایک رکاب میں پاؤں پھنسا رہ گیا۔اس پر اس نے شور مچایا اور نوکر کو آوازیں دینی شروع کیں کہ میرا پاؤں رکاب سے نکالو لیکن آقا ادھر شور مچاتا جاتا تھا اور نوکر ادھر شرطوں کا کاننذ لئے چلاتا جاتا تھا کہ دیکھ لو سرکار اس میں یہ شرط لکھی نہیں۔گورنمنٹ کے افسروں نے بھی ہم کو اس مشکل میں ڈال دیا ہے۔ہم مجبور ہوگئے ہیں کہ گورنمنٹ کے حکام پر اعتبار نہ کریں اور ان سے ہر امر کے متعلق تحریر طلب کریں لیکن یہ حالت گورنمنٹ کے نقطہ نگاہ سے نہایت خطرناک ہے۔اگر حکومت کے اعلیٰ حکام میں اس قسم کی خیانت پیدا ہو گئی ہے اور ذمہ دار افسر ایک دوسرے کی تکذیب پر مجبور ہو گئے ہیں تو بتاؤ وہ حکومت کس طرح چل سکتی ہے اور اس کے ماتحت انسان کو امن کس طرح حاصل ہو سکتا ہے۔اب دوسرا واقعہ سُن لو۔ہم نے جو یہاں نئی آبادیاں قائم کی ہیں، ان میں بعض جگہ علاقوں کے علاقے ہمارے اپنے ہیں اور ان محلوں کی گلیاں ہماری پرائیویٹ گلیاں ہیں جن پر گزرنے دینا یا نہ دینا ہمارے اختیار میں ہے۔اس قسم کے ایک راستہ پر ایک پھاٹک ہم نے لگا لیا اور یہ کوئی نئی بات نہ تھی، ہندو بھی اسی طرح اپنے محلوں میں راستوں پر حفاظت کے لئے پھاٹک لگا لیتے ہیں، یہ پھاٹک جس کا میں نے ذکر کیا ہے اس راستہ پر لگایا گیا تھا جو مقبرہ بہشتی کو جاتا ہے۔ہماری تحقیق اور ہمارے علم کے مطابق وہ پھاٹک ہماری زمین میں ہے اور جس راستہ پر وہ لگایا گیا ہے وہ ہمارا پرائیویٹ ہے نہ کہ سرکاری مگر اس پھاٹک کے لگنے پر یکدم ایک شور پڑ گیا اور تمام احراری غیر احمدیوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ احمدیوں نے ہمارے راستے بند کر