خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 321

خطبات محمود ٣٢١ سال ۱۹۳۴ء جائز ہوگا کہ پہلے ہم حکومت پنجاب کے پاس اپیل کریں اور اگر وہ نہ سنے تو حکومت ہند کے پاس اپیل کریں اور اگر وہ بھی نہ سنے تو ہوم گورنمنٹ (HOME GOVERNMENT) کے پاس اپیل کریں اور اگر وہ بھی نہ سنے تو انگلستان کے باشندوں کے پاس اپیل کریں اور اگر ! وہاں بھی شنوائی نہ ہو تو ہم انہیں کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے ہر آئینی ذریعہ سے اپنی بات تمہارے کانوں تک پہنچانے کی کوشش کی، ہم نے اپنے زخموں کو ننگا کر کے تمہارے سامنے رکھ دیا لیکن تم پھر بھی ہمارے غم میں شریک نہ ہوئے۔پس اب تم بھی گورنمنٹ کے اس میں شریک ہو لیکن اس صورت میں بھی ہم بائیکاٹ اور دوسری تحریکات کے متعلق اپنے قائم شدہ رویہ کو نہیں بدلیں گے اور قانون شکنی کے نزدیک نہیں جائیں گے۔اس میں شبہ نہیں کہ بعض صورتیں ایسی ہیں کہ جو بائیکاٹ کے مشابہ ہیں اور خاص حالات میں جائز ہیں مگر وہ دور کی بات ہے اور جب تک وہ وقت نہ آئے، اس وقت تک اگر کسی دوست کے ذہن میں کوئی ایسی بات آئے جو جماعت کیلئے یا میرے لئے قابل عمل ہو تو وہ میرے سامنے پیش کر سکتا ہے۔مگر اس سے پہلے کہ آخری فیصلہ ہمارے لئے نہ ہو، ہمارے لئے جائز نہیں کہ ہم ظالم بن کر ایک فعل کا ارتکاب کریں۔رسول کریم ﷺ کے پاس ایک دفعہ ایک شخص آیا اور اس نے کہا۔یا رسول اللہ ! اگر میں اپنی بیوی کو زنا کرتے دیکھوں تو کیا میں اس کو قتل کردوں۔آپ نے فرمایا نہیں اگر تو اسے قتل کرے گا تو تو قاتل سمجھا جائے گا اور تیرے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جو قاتلوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔کیونکہ سزا دینا حکومت کا کام ہے، تیرا نہیں ہے۔اسی طرح ہمارا یہ کام نہیں کہ ہم اللہ تعالی کی بتائی ہوئی تجاویز کے خلاف کوئی اور تجاویز اپنے لئے اختیار کرلیں کیونکہ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہم ظالم ہو جائیں گے اور اللہ تعالی کی نصرت ہمارے ساتھ نہ رہے گی۔اور اگر اللہ تعالی کی مدد سے بھی ہم محروم ہو گئے تو ایسی کسی حکومت کے مقابلہ میں جس کے پاس ہوائی جہاز' تو ہیں، بندوقیں ہم، تلواریں اور لاکھوں سپاہی ملازم ہیں، ہم کیا کر سکتے ہیں۔گاندھی جی تینتیس کروڑ افراد لے کر اٹھے تھے لیکن وہ کچھ نہ کر سکے۔ہماری جماعت تو گورنمنٹ کی مردم شماری کی رُو سے پنجاب میں چھپن ہزار ہے۔اگر سارے ہندوستان کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے دوگنا بھی کرلیا جائے اور پھر اگر ہمارے اندازے کے مطابق ہندوستان کی جماعت کو اڑھائی تین لاکھ سمجھ لیا جائے، تب بھی تینتیس کروڑ افراد جس جگہ فیل ہو چکے ہوں، وہاں یہ تعداد کیا کر سکتی ہے۔