خطبات محمود (جلد 15) — Page 320
خطبات محمود ۳۲۰ کیونکہ کیا پتہ ہے کہ میں اگلے جمعہ تک زندہ بھی رہتا ہوں یا نہیں۔پس میں آج یہ بتادینا چاہتا ہوں کہ وہ سکیم جو میں پیش کرنا چاہتا ہوں وہ کبھی غائب نہیں ہو سکتی بغیر اس کے کہ تمہیں اس کا علم ہو، وہ تمہارے پاس پہنچ چکی ہے اور بغیر اس کے کہ وہ تمہیں معلوم ہو، بکلی محفوظ ہو چکی ہے اور کسی انسان کی موت اس کو کسی صورت میں بھی نہیں مٹاسکتی۔بہرحال جماعت احمدیہ جلد یا بدیر اس معالمہ میں غالب آکر رہے گی اور اپنی صداقت دنیا سے منوا کر رہے گی۔میں پھر اصل مضمون کی طرف لوٹتے ہوئے کہتا ہوں کہ ہم گورنمنٹ سے لڑائی نہیں کریں گے اور نہ کبھی قانون شکنی کریں گے بلکہ ہم صرف اپنی ہتک کا ازالہ کرنا چاہتے ہیں، اسی حد تک ہماری سعی رہے گی۔دوسرے کی ہتک کرنے کا نہ ہمارا ارادہ ہے اور نہ ہم اسے جائز سمجھتے ہیں۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ حکومت کے بعض افسروں کو بھی غلطی لگی ہے اور وہ خیال کرنے لگے ہیں کہ شاید میں نان کو آپریشن (NON-COOPERATION) | جیسی کوئی تحریک کرنے والا ہوں۔ادھر جماعت کے بعض لوگوں نے بھی میری سکیم کو نہیں سمجھا۔گو بعض نے حیرت انگیز طور پر سمجھا ہے حتی کہ انہوں نے اپنے خطوط میں میری سکیم کا ڈھانچہ اختصاراً بیان کر دیا ہے لیکن بعض نے ناواقفیت سے ایسی تجاویز بھی پیش کی ہیں جو صورت میں بھی درست نہیں ہو سکتیں۔مثلاً ایک شخص نے لکھا ہے کہ ہمیں کھدر پہنا شروع کر دینا چاہیئے۔میں سمجھتا ہوں کہ بیشک اگر انگریزی کپڑے کا بائیکاٹ کیا جائے تو انگلستان کو ہم پندرہ لاکھ روپیہ کا سالانہ نقصان آسانی سے پہنچا سکتے ہیں اور کانگرس سے مل کر ہم کام کریں تو یقیناً انگریزی مال کے بائیکاٹ کی سکیم بہت زیادہ کامیاب ہو سکتی ہے مگر یہ امر ہماری تعلیم کے خلاف ہے کہ ہم کسی ایسے شخص کا بائیکاٹ کریں جس کا قصور نہ ہو۔اور گو اس ذریعہ سے بھی ہم انگلستان کو اپنے حقوق کی طرف توجہ دلا سکتے ہیں مگر چونکہ مذہبی لحاظ سے یہ ہمارے لئے جائز نہیں، اس لئے یہ طریق بالکل نامناسب ہے۔علاوہ ازیں یہ عقل کے بھی خلاف ہے کہ پنجاب کا ایک افسر غلطی کرے مگر لٹھ لنکاشائر کے لوگوں پر مارا جائے۔ہمارا فرض ہے کہ کیسا ہی خطرناک موقع پیش آئے ہم اپنی عقل کو قائم رکھیں اور عدل کو کسی لمحہ بھی اپنے ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔پس یہ بالکل غیر معقول بات ہے کہ پنجاب کا ایک آدمی ہماری ہتک کرتا ہے مگر لٹھ لنکاشائر کے آدمیوں کو مارا جاتا ہے۔ہاں یہ ہمارا حق ہے اور اگر ہم ایسا کریں تو ہے