خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 317

خطبات محمود دوست کی طرف سے تکلیف پہنچنے کی ایک مثال ہے۔پھر دوسری وجہ ہمارے شکوہ کی یہ ہے کہ گورنمنٹ نے ایک ایسا راستہ اختیار کیا ہے جس پر چلنے سے فساد برپا ہوتا اور ملک کا امن برباد ہوتا ہے۔اگر پرامن شہریوں، وفادار رعایا اور خدمت گزار باشندگان ملک کو اس طرح ڈس او بیڈینس کا مرتکب قرار دیا جائے، اگر جائز کاموں کیلئے اپنے مقدس مقامات کی طرف آنے والوں کے راستہ میں اس طرح رُکاوٹ ڈالی جائے تو بتلاؤ اس ملک میں رہنے سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔پس اگر ہم اس کا ازالہ نہ کریں تو ہمیں خطرہ ہے کہ یہ فتنہ بڑھتا چلا جائے گا اور وہ دلیل جس سے ہم کانگرسیوں کو قائل کیا کرتے تھے باطل ہو جائے گی۔ہم ہمیشہ کانگرسیوں سے یہ کہا کرتے کہ گورنمنٹ قانون کی پابندی کرتی اور انصاف کو قائم رکھتی ہے مگر اس واقعہ کو سن کر کون شخص ہے جو یہ کہہ سکے کہ گورنمنٹ نے قانون کی پابندی کی۔میں اس بات پر تیار ہوں کہ ایک انگریز جج کو مقرر کیا جائے اور اس کے سامنے ان تمام واقعات کو رکھا جائے پھر اگر وہ ان تمام واقعات پر غور کر کے کہہ دے کہ اس میں ہماری غلطی ہے تو ہم اسے تسلیم کرلیں گے اور اگر وہ یہ کہہ دے کہ اس میں گورنمنٹ کی غلطی ہے تو ہمیں یہ امید کرنے کا حق ہے کہ گورنمنٹ بھی یہ کہے کہ اس سے غلطی ہوئی۔ہم کانگرسیوں کی طرح یہ مطالبہ نہیں کرتے کہ ایک آزاد کمیشن مقرر کیا جائے جس میں گورنمنٹ کا کوئی افسر شامل نہ ہو نہ ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسا کمیشن مقرر کیا جائے جس میں آدھے احمدی اور آدھے انگریز آفیسرز ہوں، نہ ہم یہ کہتے ہیں کہ کوئی ایسا کمیشن مقرر ہو جو ہماری رائے پر مقرر ہو بلکہ میں یہ تسلیم کرنے کیلئے تیار ہوں کہ اگر ایک انگریز جج مقرر کردیا جائے تو ہم اپنا ریکارڈ اس کے سامنے رکھ دیں گے اور گورنمنٹ بھی اپنا ریکارڈ اس کے سامنے رکھ دے۔پھر اگر وہ کہہ دے کہ یہ ہماری غلطی ہے تو ہم اسے ہر وقت تسلیم کرنے کیلئے تیار ہیں۔اور اگر وہ کہ گورنمنٹ کی غلطی ہے تو اسے بھی اپنی غلطی کو تسلیم کرنا چاہیے۔میں حج کی شرط اس لئے لگاتا ہوں کہ جوں کی تربیت اس رنگ میں ہوتی ہے کہ وہ ہر معاملہ کو قضائی رنگ میں دیکھنے کے عادی ہو جاتے ہیں۔اگر اس معاملہ میں اپیل کی اجازت ہوتی تب بھی مجھے زیادہ غصہ نہ آتا کیونکہ میں سمجھتا کہ سلسلہ کی عزت کی حفاظت کیلئے ہم ہائی کورٹ میں اپیل کرلیں گے اور چونکہ بہرحال دنیوی اصول کے مطابق آخری فیصلہ انسانوں نے ہی کرنا ہوتا ہے، اس لئے اگر ہائی کورٹ