خطبات محمود (جلد 15) — Page 265
خطبات محمود ۲۶۵ سال ۱۹۳۴ء اس لئے افسران سلسلہ کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ خصوصیت سے اپنے اخلاق درست کریں۔اگر ضدی لوگ آجائیں تو ان کو بھی محبت اور پیار سے سمجھانے کی کوشش کیا کریں اور پوری محنت اور اخلاص سے کام کرنے کی عادت ڈالیں۔اس امر کی طرف خدا تعالٰی ن وَالتُّزِعَتِ غَرْفًا وَالنَّشِطَتِ نَشْطًان میں اشارہ کیا اور بتایا ہے کہ مومن جب کام میں مشغول ہوتا ہے تو وہ ہمہ تن اس میں مستغرق ہو جاتا اور مشکلات پر قابو پالیتا ہے۔ایسی صورت میں اگر مخالفین کی طرف سے اعتراض بھی ہو تو دعاؤں سے اس کا ازالہ کرنا چاہیئے اور اعتراضات سے کبھی گھبرانا نہیں چاہیئے۔میں تو اعتراضات سن سن کر اتنا عادی ہو چکا ہوں کہ اب میری مثال اس عورت کی سی ہو گئی ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ پاگل تھی جب باہر نکلتی تو چھوٹے چھوٹے بچے اس کے پیچھے لگ جاتے اور اسے کنکر وغیرہ مارتے اور وہ گالیاں دیتی۔ایک دن لوگوں نے اپنے بچوں کو سمجھایا کہ یہ ناجائز طریق ہے یہ بیچاری پاگل ہے تم اسے تنگ کیوں کرتے ہو۔مگر یہ خیال کر کے ممکن ہے بچے اس نصیحت پر عمل نہ کریں انہوں نے گھروں میں انہیں بند کرلیا۔دوسرے دن جب وہ پاگل عورت باہر نکلی اور اس کے پیچھے کوئی بچہ نہ دوڑا تو وہ ہر گھر پر جاتی اور کہتی آج رات تمہارے بچوں کو قولنج ہو گیا ہے کہ وہ باہر نہیں نکلے۔کہیں جاکر کہتی آج تمہارے بچوں پر چھت گرپڑی تھی کہ وہ دکھائی نہیں دیتے۔وہ کہنے لگے بچوں کو آزاد کردو یہ تو یوں بھی بد دعائیں دیتی ہے اور اس طرح بچوں کو ہم قید کیوں رکھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے میں نے کئی دفعہ سنا ہے کہ لوگ گالیاں دیتے ہیں تب بُرا معلوم ہوتا ہے کہ یہ کیوں اپنی عاقبت خراب کر رہے ہیں اور اگر گالیاں نہ دیں تب بھی ہمیں تکلیف ہوتی ہے کیونکہ مخالفت کے بغیر جماعت کی ترقی نہیں ہوتی۔پس ہمیں تو گالیوں میں بھی مزا آتا ہے۔اس لئے اعتراضات یا لوگوں کی بدزبانی کی پرواہ نہیں کرنی چاہیئے۔پنجابی میں ضرب المثل ہے کہ اونٹ اڑاندے ہی لدے جاندے ہیں۔" یعنی اونٹ کو چیختا رہتا ہے مگر مالک اس پر ہاتھ پھیر کر اسباب لاد ہی دیتا ہے۔اسی طرح لوگ خواہ کچھ کہیں تم نرمی اور محبت سے ان سے کام لئے جاؤ اور یہ سمجھ لو کہ جب تم خدا کیلئے کام کرو گے تو آسمان کے فرشتے تمہاری مدد کریں گے اور اگر آسمانی فرشتے تمہاری مدد کیلئے نہ اُتریں اور خدا کا یہی منشاء ہو کہ تم اس کی راہ میں مارے جاؤ تو پھر بھی پرواہ نہ کرو۔غالب نے کہا ہے۔