خطبات محمود (جلد 15) — Page 264
خطبات محمود PYF سال ۱۹۳۴ء ابھی تھوڑے ہی دن ہوئے ایک شخص کو ملاقات کیلئے وقت دیا گیا تو وہ آکر کہنے لگا کہ میں کہہ کر تو یہی آیا تھا کہ دو منٹ سے زیادہ وقت نہیں لوں گا مگر آج میں نے آپ کو چھوڑنا نہیں اور جتنا جی چاہا آپ سے باتیں کرنی ہیں۔میں نے کہا اور لوگ بھی تو انتظار میں ہوں گے انہیں بھی ملاقات کیلئے وقت دینا ہے۔کہنے لگا چاہے کچھ بھی ہو میں آج جی بھر کر آپ سے باتیں کروں گا۔ساڑھے گیارہ بجے وہ ملاقات کیلئے آیا تھا دو منٹ اسے وقت دیا گیا مگر وہ میرے پاس سے ڈیڑھ بجے اُٹھا۔یہ اس قسم کے نقائص ہیں کہ ممکن ہے اس قسم کے لوگوں سے ناظروں کو بھی واسطہ پیش آتا ہو مگر چونکہ ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں اس لئے ہمارا یہی طریق ہے کہ ہم انہیں سمجھاتے ہیں۔قرآن مجید میں بھی آتا ہے فَذَكَّرُ انُ نَفَعَتِ الذِّكْرَى هے یعنی سمجھاتے رہو کیونکہ کبھی نہ کبھی نصیحت کارگر ہو ہی جاتی ہے۔اسی طرح بعض دفعہ لوگ غلط فہمی میں مبتلاء ہو کر سمجھ لیتے ہیں کہ ان کے ساتھ درشتی کی گئی ہے حالانکہ بات غلط ہوتی ہے۔مجھے ہی ایک دفعہ ایک شخص نے لکھا کہ آپ نے فلاں معاملہ میں سختی کا حکم دیا ہے جو درست نہیں حالانکہ کاغذات اور مسل میں میں نے اس کے حق میں سفارش کی ہوئی تھی۔پس بسا اوقات ایسے بہروں سے بھی انسان کو واسطہ پڑ جاتا ہے جیسے کہا کرتے ہیں کہ کوئی برا تھا وہ اپنے کسی دوست کے پاس اس کی عیادت کیلئے گیا۔راستہ میں وہ سوچنے لگا کہ میں جاکر اس کا حال پوچھوں گاتو وہ یہی کہے گا کہ اچھا ہوں۔میں کہوں گا الحَمْدُ لِلَّهِ ! پھر پوچھوں گا کہ کیا کھاتے ہو اسے طبیبوں نے کھانے کیلئے کوئی مناسب غذا ہی بتائی ہوگی میں کہوں گا کہ بہت اچھی غذا ہے۔پھر میں پوچھوں گا کہ کس کا علاج کرتے ہو وہ کسی مشہور ڈاکٹر کا نام بتائے گا۔میں کہوں گا کہ وہ بہت قابل ڈاکٹر ہے اس کا ضرور علاج کراؤ۔یہ سوچ کر جب وہ اس کے پاس گیا تو جاتے ہی کہنے لگا طبیعت کیسی ہے وہ کسی بات پر چڑا ہوا تھا کہنے لگا مر رہا ہوں۔یہ بول اُٹھا اَلْحَمْدُ لِلَّهِ ! پھر پوچھنے لگا آپ کھاتے کیا ہیں؟ وہ کہنے لگا خون دل کھاتا ہوں یہ کہنے لگا بہت اچھی غذا ہے۔یہ روز کھایا کیجئے۔پھر اس نے سوال کیا کہ آپ علاج کس کا کراتے ہیں۔وہ کہنے لگا ملک الموت کا۔یہ جھٹ بول اُٹھا وہ بہت کامیاب معالج ہے۔جہاں جاتا ہے کامیاب آتا ہے۔غرض ایسے بہروں سے بھی دنیا میں واسطہ پڑ جاتا ہے بات کچھ اور کہی جاتی ہے اور وہ کسی اور بات پر اسے محمول کرلیتے ہیں۔