خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 256

خطبات محمود ۲۵۶ سال ۱۹۳۴ء ہے۔کہ وہ دوسرے کو بھوکا مارنا چاہتا ہے۔بهر حال مانگنا ایک لعنت ہے جس سے بچنا چاہیئے۔جس قوم میں سوال کی عادت آجائے وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتی پھر وہ سوال ہی کرتی رہتی ہے، حکومت نہیں کر سکتی۔رسول کریم اسے سخت ناپسند کرتے تھے۔آپ سے ایک دفعہ ایک شخص نے سوال کیا اور آپ نے اسے کچھ دے دیا۔اس نے پھر سوال کیا اور آپ نے اسے کچھ دیا۔پھر سوال کیا اور آپ نے پھر دیا مگر ساتھ ہی فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایک ایسی بات بتاؤں جو سوال سے بہت اچھی ہے۔پھر آپ نے اسے نصیحت کی کہ سوال نہ کیا کرو ہے۔اس پر اس کا ایسا اثر ہوا کہ ایک جنگ میں ایک دستہ فوج کا وہ افسر تھا اس کا کوڑا گر گیا یہ حالت ایسی خطرناک ہوتی ہے کہ ذراسی غفلت سے سر اُڑ جانے کا خطرہ ہوتا ہے ایک شخص نے کہا آپ نہ اُتریں خطرہ ہے میں کوڑا پکڑا دیتا ہوں مگر اس نے کہا خدا کی قسم! کوڑے کو ہاتھ نہ لگانا مجھے رسول کریم ﷺ نے سوال سے منع کیا ہوا ہے ہے گویا صحابہ ایسی حالت میں بھی دوسرے کا دست نگر ہونا گوارا نہ کرتے تھے جب جان کا خطرہ ہوتا تھا۔یاد رکھو جس قوم میں سوال کی عادت ہو وہ کبھی ترقی نہیں کرتی۔سوال کی عادت در حقیقت ایک وبا کی طرح ہوتی ہے اور جب یہ شروع ہو ائے تو پھیلتی چلی جاتی ہے۔میں نے دیکھا ہے مجلس میں بیٹھے ہوئے ایک شخص کوئی بات پوچھتا ہے تو دوسرا کہتا ہے میرا بھی ایک سوال ہے، تیسرا کہتا ہے میرا بھی ایک سوال ہے اور اس طرح سوالات کی ایک رو چل جاتی ہے۔پس قومی اخلاق کیلئے سوال کی عادت کو مٹانا ضروری ہے۔محلوں کے ذمہ دار افراد کا فرض ہے کہ وہ نہ صرف ہر شخص کیلئے روٹی کپڑا مهیا کریں بلکہ یہ بھی دیکھتے رہا کریں کہ کوئی شخص نکما نہ رہے سوائے ان معذوروں کے جو کام کر ہی نہیں سکتے یا طالب علموں کے جو اگر کام کریں تو پھر پڑھ نہیں سکتے۔رم الفضل ۲- مارچ ۱۹۲۰ء) شه اسدالغابة في معرفة الصحابة المجلد الثالث صفحہ ۱۵۷ مطبوعہ ۱۲۸۶ھ کے که بخارى كتاب الزكوة باب الاستعفاف عن المسئلة ه مسند احمد بن حنبل جلد ۵ صفحه ۲۷۷ (مفهوماً)