خطبات محمود (جلد 15) — Page 255
خطبات محمود ۲۵۵ سال ۱۹۳۴ء کے دہی بھلے بیچا کرتا تھا لیکن بعد میں وہ بڑا حلوائی بن گیا۔اسی طرح ایک شخص جس کا معاملہ اب زیادہ دیانتدارانہ نہیں رہا، پہلے صرف عرق کشید کیا کرتا تھا مگر بعد میں اس کی تجارت بڑھ گئی۔تو جہاں محلہ والوں پر ذمہ داری ہے وہاں ایسے لوگوں پر بھی ذمہ داری ہے کہ کام کریں۔بیسیوں عورتیں ہیں جن کے پاس اخراجات کا کوئی سامان نہیں اور ایسے کئی خاندان ہیں جو نوکر رکھنے کے عادی ہیں۔پھر کئی ایسے ہیں جو نوکر رکھنے کے عادی نہیں لیکن ان کے گھر میں بیماری ہوتی ہے اور انہیں عارضی طور پر نوکر کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ایسی عورتیں ہمارے گھر میں آتی ہیں اور اپنی تکالیف بیان کرتی ہیں لیکن جب میں ان سے کہتا ہوں کہ تمہیں امور عامہ کی معرفت کسی کے ہاں نوکر کر دیا جائے تو کہہ دیتی ہیں کہ نہیں یہ تو بڑی ذلت کی بات ہے۔حالانکہ کام کرنے میں کوئی ذلت نہیں۔حضرت علی " کے متعلق آتا ہے کہ آپ گھاس کاٹ کر بیچا کرتے تھے سے۔ہم لوگ چاہے کسی کی نسل سے ہوں مگر حقیقت تو یہی ہے کہ ہمارے اصل باپ دادے وہی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انہیں علم عطا کیا، رسول کریم ﷺ کا قرب عطا کیا اور پھر آپ کی دامادی کا شرف اور پھر خلافت کے مقام پر فائز کیا۔تصوف والوں کا آپ کو باپ دادا بنایا مگر انہیں جنگل گھاس کاٹ کر لانے میں بھی کوئی عار نہ تھی۔پھر اگر ہم میں سے کوئی اس میں شرم محسوس کرے تو کتنی بڑی غلطی ہے اس لئے جہاں یہ ضروری ہے کہ اہل محلہ سب کو کھلانے پلانے کا ذمہ اٹھا ئیں وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ ہر شخص سے کام لیا جائے اور جب ہم انہیں کوئی نہ دے سکیں تو پھر بیشک مدد کے طور پر انہیں کچھ دے دیں لیکن اگر وہ کام نہیں کریں گے تو ہم انہیں کچھ نہیں دیں گے۔اسی ضمن میں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جن عورتوں یا بچوں کو محلہ کے عہدیدار ملازم کرائیں ان کے متعلق یہ دیکھتے رہیں کہ ان کے ساتھ سختی نہ جائے۔بعض لوگ پہلے نوکر رکھ لیتے ہیں اور پھر ان کے ساتھ سختی کرتے ہیں اور جب وہ جانا چاہیں تو انہیں مجبور کرتے ہیں کہ تمہیں رہنا ہو گا۔اس کیلئے بھی قواعد بنانے چاہئیں جو نوکر جانا چاہے وہ پندرہ دن کا نوٹس دے دے اور محلہ کے صدر کو جاکر کہہ دے کہ میں پندرہ دن کے بعد فلاں شخص کی ملازمت چھوڑ دوں گا۔اس کے بعد اسے روکنے کا کسی کو حق نہ ہوگا اور جو اس کے بغیر چلا جائے اسے کوئی دوسرا شخص اپنے پاس ملازم نہ رکھے ہاں نوٹس کی میعاد گزرنے کے بعد جو شخص پروپیگنڈا کرے کہ فلاں کو نوکر نہ رکھا جائے اسے سزا دی جائے