خطبات محمود (جلد 15) — Page 242
خطبات محمود ۲۴۲ سال ۱۹۳۴ء • اور وزن کم نہ ہو۔ایک دن مجھے عرق گلاب کی ضرورت تھی جو میں نے ایک دُکان سے منگوایا۔میں نے دیکھا دکاندار نے پانی میں یوکلپٹس آئل ملایا ہوا تھا جسے وہ عرق گلاب کے طور پر بیچتا تھا اور یہ ایسی خطرناک بات ہے کہ اسلامی حکومت ہو تو اس کیلئے بڑی سخت سزا ہے۔دوائیوں میں بے احتیاطی بسا اوقات مملک ثابت ہوتی ہے۔آج کل بہت سے ولایتی ایسنس نکلے ہوئے ہیں اور ان کے ذریعہ ہر چیز کا عرق بنایا جاسکتا ہے مگر وہ گلاب وغیرہ کا عرق نہیں ہوگا اگرچہ اس کی خوشبو ویسی ہی ہو۔بعض لوگ انہی سے عروق تیار کرلیتے ہیں حالانکہ وہ زہریلے ہوتے ہیں کیونکہ وہ دواؤں سے نہیں بنتے بلکہ ایسنسوں سے بنتے ہیں۔پھر میرا تجربہ ہے کہ جو آٹا فروخت کیا جاتا ہے اس میں سے نوے فیصدی ایسا ہوتا ہے جس میں کرکٹ ہوتی ہے اور کیرک ایسی خطرناک چیز ہے کہ اس سے درد گردہ پتھری اور مثانہ وغیرہ کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔لوگ عام طور پر جلدی جلدی روٹی کھانے کے عادی ہوتے ہیں اس لئے اس نقص کو محسوس نہیں کرتے۔اگر اسلام کے حکم کے مطابق آہستہ آہستہ اور چباچبا کر روٹی کھائیں تو انہیں بآسانی معلوم ہو سکتا ہے کہ عام طور پر جو آٹا فروخت ہوتا ہے اس میں کیرک ہوتی ہے مگر لوگ وقار کے ساتھ روٹی نہیں کھاتے حالانکہ رسول کریم ﷺ نے اس کی خاص طور پر ہدایت فرمائی ہے۔اگر ہماری جماعت کے لوگ کھانے کے متعلق اس ہدایت کی پابندی کرتے تو انہیں اس نقص کا احساس بڑی آسانی سے ہو سکتا تھا۔کرک ایک سخت تکلیف دہ چیز ہے۔گردہ اور مثانہ کے امراض اس سے پیدا ہوتے ہیں مگر دکاندار جو آٹا فروخت کرتے ہیں اس میں سے نوے فیصدی بلکہ میں کہوں گا ننانوے فیصدی کرک ہوتی ہے اور دکاندار بھاؤ کرتے وقت یہ خیال نہیں رکھتے کہ ایسا آٹا خریدیں جس میں کیرک وغیرہ نہ ہو بلکہ صاف ہو۔وہ صرف یہ خیال کرتے ہیں کہ چار آنہ سستی بوری مل جائے جس کے یہ معنے ہیں کہ وہ بیوپاری کو اجازت دیتے ہیں کہ اس قدر وہ مٹی ملا سکتا ہے اور یہ بھی ویسی ہی بد دیانتی ہے جیسا خود مٹی ڈال کر بیچنا۔پس دوست تاجروں کی اصلاح کی طرف بھی توجہ کریں اور جب انہیں شبہ ہو کہ کوئی دوائی یا کوئی اور چیز اچھی نہیں تو فوراً مقامی انجمن کے پاس رپورٹ کریں اور اس کا فرض ہے کہ تحقیقات کرے کہ شکایت صحیح ہے یا نہیں۔اگر صحیح ہو تو اس کا ازالہ کرنے کی کوشش کرے۔ایک دفعہ ہمارے گھر میں ایک بوری آئی اور اسے دیکھ کر میں نے کہا کہ اس میں