خطبات محمود (جلد 15) — Page 215
سال ۱۹۳۴ء خطبات محمود ۲۱۵ پھر اگر یہ سمجھے کہ میں نے نمازیں پڑھی ہیں اور نتائج کا امیدوار ہوں تو یہ اس کی غلطی ہوگی۔اسی طرح ایک شخص روزہ رکھتا ہے مگر اس کے روزہ کی حقیقت کوئی نہیں۔وہ گالیاں بھی دیتا رہتا ہے، فساد بھی کرتا ہے، غیبت، چغلی، بد گوئی سب کچھ کرتا ہے ایسی حالت میں اگر اُس نے پیٹ کو خالی رکھا تو اس سے کیا فائدہ یا اگر وہ یہ استدلال کرلیتا ہے کہ سحری کھاتے ہوئے اگر ذرا دیری بھی ہو گئی تو کیا حرج ہے۔یا شام کے وقت سے پہلے ہی افطار کرلیتا ہے۔یا اتنی دیر میں کرتا ہے کہ جس کے متعلق رسول کریم ال نے فرمایا ہے کہ روزہ مکروہ ہو جاتا ہے سہ تو ایسے روزہ کا کیا فائدہ یہ ساری حالتیں روزہ کو خراب کرنے والی ہیں۔، یہاں ایک شخص ہے جسے بچپن سے اعتراض کرنے کی عادت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں وہ اس امر پر بحث کیا کرتا تھا کہ اگر روزہ مقررہ وقت سے کچھ دیر یا بعد میں رکھ لیا یا وقت سے ذرا پہلے یا بعد میں افطار کرلیا جائے تو کیا حرج ہے۔ایک دن اس نے خواب میں دیکھا کہ تانی (جولاہوں کی) ایک طرف کیلے سے باندھ کر دوسری طرف باندھنا چاہتا ہوں۔لیکن وہ کیلے سے دو انچ ادھر رہتی ہے وہاں تک پہنچانے کیلئے کھینچتا ہوں مگر وہ نہیں پہنچتی۔اس پر بہت گھبراہٹ ہوئی کہ صرف دو انچ فرق کیلئے تانی خراب ہو جائے گی اور شور مچانا شروع کردیا کہ لوگو دیکھو صرف اتنے سے فرق کیلئے میری تانی خراب ہو رہی ہے میں آنکھ کھل گئی اور تعبیر سمجھ میں آگئی اسی طرح جماعتی اور ملی کام ہوتے ہیں۔بعض مخص خیال کرلیتے ہیں کہ سب لوگ چندہ دیتے ہیں اگر ہم نے نہ دیا تو کیا ہو گیا لیکن اگر ہر یہی خیال کرلے تو کام کس طرح چلے۔جماعت کے ہر شخص کو خیال کرنا چاہیے کہ میں ہی ذمہ دار ہوں اور مجھے کسی حالت میں بھی خدمت دین سے غافل نہیں ہونا چاہیئے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں ایسے مخلصین ہیں جو اپنے بیوی بچوں کیلئے جب سامان اور ضروریات خریدتے ہیں تو دین کی بھی فکر رکھتے ہیں۔وہ جب اپنے اور اپنے متعلقین کیلئے آرام کا سامان مہیا کرتے ہیں تو یہ بھی دیکھ لیتے ہیں کہ محمد رسول اللہ اللہ کے دین کیلئے ہم نے کیا سامان کیا ہے گویا وہ آپ ہی آپ بیدار ہوتے ہیں۔ان کے علاوہ بعض ایسے ہوتے ہیں جو سوجاتے ہیں مگر جب بیدار کیا جائے تو فوراً بیدار ہو جاتے ہیں لیکن بعض کچلے ہوتے ہیں اور مچلوں کو کون جگا سکتا ہے۔جو دراصل جاگ رہا ہو اور جان بوجھ کر سویا ہو اسے کس طرح جگایا جائے۔اسے جتنا ہلاؤ گے وہ زیادہ خرانے بھرنے لگے گا۔ایسے لوگ سخت نقصان کا