خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 208

خطبات محمود ۲۰۸ سال ۱۹۳۴ء باقی ہوں یا کوئی اور ہوں، وہ ایک مچھر جتنی بھی وقعت نہیں رکھتے اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ۔لوگ ہمارے مقابل میں ایک فیصدی کامیابی بھی حاصل کرلیں گے یہ کیا قادیان کے سارے مخالف مل جائیں ، ہندو، سکھ، غیر احمدی اور احراری ہماری مخالفت میں متحد ہو جائیں، اس کے بعد وہ ارد گرد کے لوگوں کو ملا کر اپنی جماعت کو بڑھائیں، پھر سارے ملک میں سے جن کو اپنا مددگار بنا سکتے ہیں بنائیں حتی کہ انگریز بھی بیشک ان کے ساتھ مل جائیں، اگر یہ تمام مل کر ہمارے مقابل میں ایک فیصدی کامیابی حاصل کر سکیں تو وہ بچے مگر ناممکن ہے کہ انہیں کامیابی ہو۔رہیں عارضی مشکلات سو یہ آیا ہی کرتی ہیں۔کیا یہ تکلیفیں رسول کریم ﷺ کو پیش نہیں آئیں، کیا آپ کو وطن سے بے وطن نہ ہونا پڑا اپنے عزیزوں کو نہ چھوڑنا پڑا، رسول کریم نے یہ تمام تکالیف دیکھیں۔یہاں تک کہ آپ کی ایک صاحبزادی جو حمل سے تھیں جب مکہ سے مدینہ جانے لگیں تو مخالفوں نے انہیں زدو کوب کیا جس کی تکلیف سے ان کا حمل ساقط ہو گیا۔تو عارضی تکلیفیں مومنوں پر آیا ہی کرتی ہیں مگر وہ ان سے گھبرایا نہیں کرتے۔جس طرح ایک طالب علم محنت کرتا اور تکلیفوں کی پرواہ نہیں کرتا یہاں تک کہ پاس ہو جاتا ہے اسی طرح پاس ہم نے ہونا ہے چاہے کوئی کتنا زور لگا لے۔وہ بیشک ہمیں ماریں، پیٹیں، ہم میں بعض کو لولا لنگڑا کر دیں یا جان سے مار دیں، ہمیں اس کی پرواہ نہیں۔جس چیز کی پرواہ ہے ہے کہ ہم ہار نہ جائیں۔اور یہ یقینی بات ہے کہ دشمن ہی ہاریں گے ہم نہیں ہارسکتے چاہے کوئی گورنمنٹ کھڑی ہو جائے، علماء اور عوام سب مل جائیں، یہ قطعی اور یقینی بات ہے کہ ہم جیتیں گے۔ہم کونے کا پتھر ہیں جس پر ہم گرے وہ بھی ٹوٹ جائے گا اور جو ہم پر گرا وہ بھی سلامت نہیں رہے گا۔یہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے جو پورا ہو کر رہے گا لیکن اس کے مقابلہ میں بعض ہماری ذمہ داریاں بھی ہیں۔میں نے متواتر جماعت کو توجہ دلائی ہے کہ جب بھی کوئی فتنہ اُٹھتا ہے، منافقوں کے ذریعہ اُٹھتا ہے اور میں نے ہمیشہ جماعت سے کہا ہے کہ منافقوں کو ظاہر کرو اور ان کی پوشیدہ کارروائیوں کو کھولو مگر جماعت اس طرف توجہ نہیں کرتی۔مجھے اچھی طرح معلوم ہے ایک درجن سے زائد آدمی قادیان میں ایسے رہتے ہیں جن کی مجالس میں فتنہ انگیزی کی گفتگوئیں ہوتی رہتی ہیں اور جو باہر سے آنے والوں کو ورغلاتے رہتے ہیں۔مجھے شریعت اجازت نہیں دیتی کہ میں بغیر ثبوت قائم کئے انہیں سزا دوں، اس لئے میں خاموش رہتا ہوں۔مگر میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ایسے منافقوں کا پتہ لگا کر ان کی