خطبات محمود (جلد 15) — Page 202
خطبات محمود ۲۰۲ سال ساتھ مالی قربانی نمایاں طور پر کی جاتی ہے اور تمام کی تمام جماعتیں بلکہ تمام کے تمام افراد إِلا مَا شَاءَ اللهُ ، کمزور ہر جماعت میں ہوتے رہے ہیں اور ہوتے ہیں، ان کو چھوڑ کر باقی نہایت اخلاص رکھتے اور ہر وقت قربانی کیلئے تیار رہتے ہیں۔گو میں نے دیکھا ہے بعض کو جگانے کی ضرورت وقتاً فوقتاً محسوس ہوتی رہتی ہے۔پچھلے سال میں نے اعلان کیا تھا کہ جو لوگ چندہ نہیں دیتے اور اس بارے میں مسلسل غفلت اور سستی سے کام لے رہے ہیں، انہیں جماعت سے خارج کردیا جائے گا اس پر جماعت میں بیداری پیدا ہو گئی۔مگر اس سال محکمہ نے غفلت کی اور غافل لوگوں کے نام میرے سامنے پیش نہیں کئے جس کے نتیجہ میں میں دیکھ رہا ہوں کہ برابر دو ماہ سے چندوں میں سستی ہو رہی ہے۔اب ایک دو خطبے پڑھوں گا اخبار میں مضامین نکلیں گے تو وہ لوگ جو غافل اور سوئے ہوئے ہیں جاگ اُٹھیں گے۔مگر بہر حال مالی قربانی ایک حد تک بلکہ بہت حد تک ہماری جماعت کر رہی ہے۔اور اگر مخلصین سے اس سے بھی زیادہ مالی قربانی کا مطالبہ کیا جائے تو وہ اس کیلئے بھی تیار ہو جائیں گے۔دوسری قربانی جان کی ہے۔یہ مختلف رنگوں میں ہوا کرتی ہے جیسا کہ مالی قربانی بھی مختلف قسم کی ہوتی ہے۔کبھی مخفی ہوتی ہے کبھی ظاہر، کبھی اس رنگ میں ہوتی ہے کہ انسان نقصان اٹھاتا ہے مگر صبر کرتا ہے اور کبھی اس رنگ میں ہوتی ہے کہ بعض باتیں اسے مالی لالچ اور حرص دلاتی ہیں مگر وہ خدا تعالیٰ کی رضاء کیلئے ان کی طرف توجہ نہیں کرتا۔جیسا کہ اس زمانہ میں سود نہ لینا لاٹریوں میں حصہ نہ ڈالنا اور لائف انشورنس وغیرہ نہ کرانا ہے۔اس میں شبہ نہیں لاٹری وغیرہ سے فوری طور پر ہر انسان کو مالی فائدہ نہیں ہو سکتا۔مگر چونکہ وہ سمجھتا ہے کہ گو روپیہ میرے ہاتھ میں نہیں مگر اس کے نتیجہ میں مجھے روپیہ مل سکتا ہے اس لئے جب وہ خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ایسی باتوں سے بچتا ہے تو وہ مالی قربانی کرتا ہے۔اسی طرح جانی قربانیاں بھی کئی رنگ کی ہوتی ہیں۔ایک جانی قربانی تو وہ ہے جس کا ہمارے بعض احمدیوں نے افغانستان میں نمونہ دکھایا۔وہاں عملی طور پر حکومت نے ہماری جماعت کے افراد سے مطالبہ کیا کہ احمدیت کو ترک کردو اور اگر احمدیت ترک کرنے کیلئے تیار نہیں ہو تو تمہیں سنگسار کر دیا جائے گا۔خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ مطالبہ جن سے کیا گیا ان میں سے ہر ایک نے یہی کہا کہ احمدیت ہمیں اتنی پیاری ہے کہ اس کے مقابلہ میں ہماری جان کی کوئی حقیقت ہی نہیں۔تم ہمیں بیشک قتل کرڈالو مگر احمدیت کو ہم ترک کرنے کیلئے تیار نہیں ہوں گے۔