خطبات محمود (جلد 15) — Page 187
خطبات محمود IAC سیال ۱۹۳۴ء۔ہے بیزار ہیں۔پس جن سے ہمیں خطرہ ہو سکتا ہے ان میں سے بھی دس میں سے ایک نکلے گا جو عمداً نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتا ہو ورنہ دس میں سے تو اعلیٰ کیریکٹر کے ہوں گے۔ممکن کبھی ان میں سے بھی کوئی مخالفت کی رو میں بہہ جائے مگر جلدی ہی ایسے لوگوں میں بیداری پیدا ہو جاتی ہے۔یہی حال سکھوں اور ہندوؤں کا ہے۔اکثریت ان میں شریفوں کی ہے۔کبھی وہ مخالفت کی رو میں بہہ جائیں تو بہہ جائیں ورنہ دس میں سے تو شریف ہوتے ہیں۔پس کتنے مخالف ہیں؟ جن کا تمہیں مقابلہ کرنا ہے افسروں میں سے گو بعض معمولی کیریکٹر کے ہوتے ہیں، بد اخلاق ہوتے ہیں اور انہیں دوسرے کو دکھ دینے میں مزا آتا ہے مگر اکثر ایسے ہوتے ہیں جو اپنے دل میں خدا کا خوف رکھتے ہیں۔اگر دنیا میں شرارت ہی شرارت ہو اور نیکی بالکل مفقود ہو جائے تو خداتعالی دنیا کو قائم بھی نہ رکھے اسے مٹاڈالے۔مگر یہ درست نہیں کہ دنیا میں نیکی کے مقابلہ میں شرارت زیادہ ہے۔ہر انسان میں کچھ نہ کچھ نیکی کا بیج ہوتا ہے۔گو بعض اسے مٹادیتے ہیں مگر اکثر اپنے دل میں اسے قائم رکھتے ہیں جو معمولی چھینٹے سے بھی نشو نما پانے لگ جاتے ہیں لیکن اگر یہ نہ بھی ہو، تب بھی افسر کیا اور ماتحت کیا، سب خدا تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں۔اور اگر ہم خدا تعالی کی جماعت ہیں تو ہماری ذلتیں عزتوں میں بدل جائیں گی اور ہماری شکستیں فتح اور کامرانی کی صورت اختیار کرلیں گی۔پس ہمیں خدا تعالیٰ پر توکل اور یقین رکھنا چاہیے۔ایسے حالات میں شریعت نے ہمیں جو طریق بتائے ہیں وہ یہی ہیں کہ ہم صبر صدق، صوم اور صلوۃ سے کام لیں۔یہ چار صاد ہیں جن کے ذریعہ انسان ہر ایک خطرہ سے محفوظ ہو جاتا ہے۔اگر انسان انہیں اختیار کرلے تو دشمن یا تو دوست بن جاتا ہے یا اپنے مقاصد میں ناکام رہ کر ہلاک ہو جاتا ہے۔پس وہ دوست جو مجھے سے آکر پوچھتے ہیں کہ ہم کیا کریں میری نصیحت انہیں یہی ہے کہ صبر سے کام لو اور اگر کبھی صبر کا دامن کسی کے ہاتھ سے چھٹ جائے تو پھر صدق سے کام لو۔اسی طرح صوم وصلوٰۃ سے کام لو۔روزے رکھو اور دعائیں کروں نمازیں پڑھو اور دعائیں کرو۔تمہارا روزے رکھنا اور تمہارا اپنے دل میں درد پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جذب کرلے گا۔تمہارا درد ایسا نہیں ہوگا کہ اسے دیکھ کر خدا تعالیٰ خاموش رہے بلکہ احادیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب مومن کے دل میں درد پیدا ہوتا ہے تو اس سے عرش الہی کانپ اٹھتا ہے اور وہ بس نہیں کرتا جب تک اپنے بندے کے غم کو دور نہیں کر دیتا۔تم نے کبھی نہیں دیکھا ہوگا کہ ایک بچہ روئے مگر اس کی ماں اسے دودھ نہ پلائے