خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 179

خطبات محمود 149 سال ۱۹۳۴ء سورتوں کی ہوں جو میں روزانہ پڑھتا ہوں۔اس وجہ سے مجھے حافظوں کی یا کلید کی ضرورت ہوتی ہے۔تو حوالوں کے متعلق میرا حافظہ بہت کمزور ہے لیکن جہاں کوئی بتانے والا نہ ہو وہاں مضمون رہیں۔اللہ تعالیٰ تائید کرتا ہے۔پانچ سات سو صفحات کی کتاب کو جہاں سے کھولا وہیں مطلوبہ سامنے آگیا۔ابھی جو لیکچر میں نے دیا ہے اس کیلئے دنیوی علوم کے متعلق مجھے ایک چیز کی ضرورت تھی۔اس کیلئے ایک کتاب تھی جو میں نے کبھی نہ دیکھی تھی لیکن جونہی کہ میں نے اسے کھولا معا وہی چیز میرے سامنے آگئی اور جب میں نے اپنے لیکچر میں اس کی طرف اشارہ کیا تو سننے والے معلوم نہیں کیا خیال کرتے ہوں گے کہ یہ بات کتنا عرصہ زیر غور رہی ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے۔بعض اوقات بڑی محنت کرنی پڑتی ہے لیکن اگر فوری ضرورت ہو تو اللہ تعالیٰ ایسا معجزانہ کام بھی کر دیتا ہے۔پس ہمارے مبلغوں کو چاہیے کہ اللہ تعالٰی سے تعلقات مضبوط کریں اور بڑھاتے عام طور پر میں رسالوں وغیرہ میں مضامین پڑھتا رہتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے اکثر حوالوں کے پیچھے پڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔روحانی پہلو ان میں بہت کمزور ہوتا ہے۔پرانی تفسیروں پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔اس کے مقابلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ اول یا میرے ترجمہ کی طرف دھیان کم معلوم ہوتا ہے حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو علوم اور معارف دنیا کے سامنے پیش کئے، ان کے سامنے پہلی تفسیریں مُردہ ہیں۔پس مولوی صاحب کے جنازہ کے علاوہ اپنے مبلغین اور دوسرے نوجوانوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ اللہ تعالی سے تعلق پیدا کریں۔تبھی وہ دنیا میں ممتاز حیثیت قائم کرسکتے ہیں وگرنہ دنیوی سامان ہمارے مخالفوں کے پاس بہت زیادہ ہیں۔الفضل ۱۴ - جون ۱۹۳۴ء) له بخاری کتاب الاستئذان باب التسليم والاستئذان ثلاثا الفتح: بخاری کتاب الادب باب لا يلدغ المؤمن من جحر مرتين