خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 12

خطبات محمود اور ۱۲ سال ۶۱۹۳۴۳ پس رمضان اگرچه مارا ہی مبارک مہینہ ہے اور آخری عشرہ سارا ہی بابرکت ہوتا ہے کسی خاص دن کی عبادت انسان کی کوتاہیوں کو پورا نہیں کر سکتی بلکہ کوتاہیوں کے ازالہ کیلئے ضروری ہے کہ انسان کفارہ دے۔پھر بھی یہ احساس لوگوں میں پایا جاتا ہے کہ رمضان کے آخری جمعہ میں ضرور شامل ہونا چاہیئے اس وجہ سے وہ لوگ جو دوسرے ایام میں عبادت میں غفلت کرتے ہیں، اس دن اکٹھے ہو جاتے ہیں۔یا شاید میں غلطی کرتا ہوں۔اصل بات یہ ہو کہ جو لوگ اپنے اپنے علاقوں میں جمعہ پڑھتے ہوں وہ جمعۃ الوداع کے لئے کسی قریب کے اہم مقام پر جمع ہو جاتے ہوں اور اس لحاظ سے اجتماع زیادہ ہو جاتا ہو۔بہر حال چونکہ لوگ اس دن زیادہ اکٹھے ہوتے ہیں، اس لئے اس اجتماع سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے اور اسی ذریعہ سے اسے بابرکت بنایا جاسکتا ہے۔اسلامی سنت سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جتنا زیادہ اجتماع ہو اسلام اُتنا ہی زیادہ عبادت اور خشوع و خضوع پر زور دیتا ہے اور یہی اسلام نے برکتیں حاصل کرنے کا گر بتلایا ہے۔اگر جمعہ میں مسلمانوں کا اجتماع ہوتا ہے تو اس دن بھی عبادت میں اس طرح زیادتی کر دی کہ گو دو رکعت فرائض رکھے مگر اس کے ساتھ ایک لمبا خطبہ رکھ دیا۔پھر علاوہ دوسرے ایام کے جمعہ کے دن اسلام نے زیادہ زور سے ذکر الہی کرنے کی تاکید اور قرآن شریف کی تلاوت کرنے کا دیا ہے۔پھر عیدین کے موقع پر اجتماع ہوتا ہے اس دن بھی ایک نماز زائد رکھ دی بلکہ علاوہ اس کے ایک میں صدقۃ الفطر اور دوسری میں قربانی رکھ کر اس امر کی طرف اشارہ کیا کہ خوشی حاصل کرنے کا شجر یہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ عبادت کی جائے اور اس طرح اجتماعات حقیقی فائدہ اٹھایا جائے۔باقی دنیا میں بھی اجتماعات ہوتے ہیں مگر ان کے اجتماعات میں لہو ولعب ہوتا ہے جو ایک ظاہری اور عارضی خوشی تک محدود ہوتا ہے۔ان اجتماعات میں کھیلیں ہوتی ہیں تماشے ہوتے ہیں، تھئیٹروں کی قسم کے سوانگ بھرے جاتے ہیں مگر ان کھیلوں سے زیادہ فائدہ نہیں ہوتا۔بچوں کو ان کھیلوں کے دیکھنے سے خوشی ہوتی ہے، نوجوان بھی خوش ہوتے اور شاید بوڑھے بھی بچوں اور نوجوانوں کے اثر کے ماتحت تھوڑی دیر کیلئے خوش ہو لیتے ہوں مگر لہو و لعب بهر حال لہو و لعب ہی ہے اور ان چیزوں کا اثر اُسی وقت تک رہتا ہے جب تک کھیلیں ہوتی رہتی ہیں۔لیکن عبادت کا اثر دائمی ہوتا ہے کیونکہ سچی عبادت انسان کو خدا کے قریب کر دیتی ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ ایسا انسان اللہ تعالی کی حفاظت کے نیچے آجاتا 3