خطبات محمود (جلد 15) — Page 11
خطبات محمود 11 رمضان المبارک کا بابرکت آخری عشرہ (فرموده ۱۲- جنوری ۱۹۳۴ء) سال ۱۹۳۴ء تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- مسلمان یہ آیا تو میں اسی ارادہ سے تھا کہ میں خطبہ جمعہ پڑھا سکوں گا کیونکہ کل شام سے کھانسی کی تکلیف میں مجھے بہت کچھ افاقہ محسوس ہو رہا تھا لیکن نہ معلوم تین چار دن لیٹے رہنے کی وجہ سے یا بلغم کی زیادتی کی وجہ سے منبر پر کھڑے ہونے کے بعد میں محسوس کرتا ہوں کہ میں نہ زیادہ بول سکتا ہوں اور نہ ہی آواز اونچی کر سکتا ہوں۔رمضان کے دن اللہ تعالیٰ کے فضل سے سارے ہی مبارک ہوتے ہیں۔اور مومن کیلئے تو سب دن ہی بابرکت ہوتے ہیں مگر نہ معلوم کن خیالات کے ماتحت یا کن اثرات کی وجہ سے مسلمانوں نے رمضان کے آخری جمعہ کو خاص اہمیت دے دی ہے۔اور یہ اہمیت اس قدر ترقی کر چکی ہے کہ بہت سے خیال کرتے ہیں کہ اس دن کی نمازیں ان کی ساری نمازوں کی کوتاہیوں کو پورا کر دیتی ہیں۔یہ ایک ایسا وہم ہے جس نے مسلمانوں کو بہت نقصان پہنچایا اور ان میں سُستی اور غفلت پیدا کردی ہے۔مگر بہر حال لوگوں میں یہ احساس ہے اور اس دن میرے پاس بھی بہت سی تاریں اور لوگوں کے خطوط آجاتے ہیں جن میں یہ درخواست ہوتی ہے کہ جمعۃ الوداع میں ہمارے لئے دعا کی جائے۔پھر عام جمعوں کی نسبت اس دن اجتماع بھی زیادہ ہوتا ہے۔عورتوں میں بھی اور مردوں میں بھی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دن میں کچھ ایسی کشش پیدا ہو گئی ہے۔کہ لوگ زیادہ سے زیادہ تعداد میں اکٹھے ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔